چینی سائنس دانوں نے شدید جلے ہوئے زخموں کے علاج میں سرجری کے دوران خون کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ایک مؤثر اور انقلابی حل تلاش کر لیا ہے۔
شینزین انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اور روجن اسپتال کے محققین نے بیکٹیریل سیلولوز نامی ایک خاص مٹیریل سے ایک جدید پٹی تیار کی ہے۔ یہ مٹیریل نہ صرف ہوا کو گزرنے دیتا ہے بلکہ جسم کے لیے بھی محفوظ ہے۔
یہ کوئی عام پٹی نہیں، بلکہ اس میں جسم کے قدرتی خون جمانے والے خامرے "تھرومبن” کو شامل کر کے اسے بائیو ایکٹیو پٹی میں تبدیل کیا گیا ہے۔
تھرومبن چونکہ خود بخود پٹی پر زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتا، اس لیے سائنس دانوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک ’بایولوجیکل گلو ٹیگ‘ شامل کیا ہے، جو تھرومبن کو پٹی کے اندر محفوظ طریقے سے چپکا کر رکھتا ہے۔ تھرومبن کو فعال کرنے کے لیے اس پٹی کو ایک خاص محلول میں ڈبونا ضروری ہوتا ہے۔
جرنل "ایڈوانسڈ مٹیریلز” میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، تھرومبن سے لیس یہ پٹی حیران کن طور پر مؤثر ہے۔ یہ صرف 60 سیکنڈ میں خون روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے، انسانی جلد کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے اور یہاں تک کہ جسم میں زخم بھرنے کے قدرتی عمل کو متحرک کرنے والے سگنلز بھی دیتی ہے۔






تبصرے بند ہیں