اسرائیلی فوج کے غزہ پر پُرتشدد حملے بدستور جاری ہیں، جن میں آج صبح سے اب تک 8 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق رفح کے علاقے میں اسرائیلی نیول بوٹس کی گولہ باری کی گئی، جبکہ نصیرات کیمپ پر بھی بھاری توپ خانے سے حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ الشاطی میں بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ پر ڈرون حملہ بھی کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 50 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ بھوک کی شدت سے مزید 10 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو ہوئی، جہاں امریکا کے سوا تمام رکن ممالک نے غزہ میں جاری قحط کو انسان کا پیدا کردہ بحران قرار دیا۔ اجلاس میں فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
علاوہ ازیں ایک امریکی یونیورسٹی کے سروے کے مطابق نصف امریکی ووٹرز کا ماننا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، جبکہ 10 میں سے 6 ووٹرز اسرائیل کو مزید فوجی امداد دینے کے مخالف ہیں۔ یہ سروے ایک ہزار 220 رجسٹرڈ ووٹرز سے کیا گیا۔






تبصرے بند ہیں