تباہ کن سیلاب سندھ پہنچنا شروع

Devastating floods begin to reach Sindh

پنجاب کے بعد تباہ کن سیلابی ریلے سندھ میں داخل، گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب

پنجاب میں شدید سیلابی صورتحال کے بعد اب ریلے سندھ میں داخل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور بہاؤ 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث یہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کیرتھر اور کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ مون سون بارشوں کا ایک نیا اور شدید اسپیل شروع ہو چکا ہے۔ آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مزید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ یہ مون سون کا دسواں اسپیل ہے، جو 9 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

اسلام آباد اور شمالی پنجاب کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اب تک پنجاب میں سیلاب سے 4,155 دیہات اور 41 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑنے کی اطلاع دی گئی ہے، جس پر وزارت آبی وسائل نے 28 متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ ہریکے اور فیروزپور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کے حوالے سے بھارت نے پاکستان کو سفارتی رابطے کے ذریعے آگاہ کیا ہے۔

ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالا میں بند ٹوٹنے کے خطرے کے پیش نظر انخلا شروع کر دیا گیا ہے، اور پاک فوج کی مدد طلب کر لی گئی ہے۔ شجاع آباد اور جلالپور پیر والا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ریسکیو کارروائیوں کے دوران ایک کشتی الٹنے سے ایک اور بچے کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حادثے کے وقت متاثرہ خاتون اور بچوں کو لائف جیکٹس نہیں پہنائی گئی تھیں۔

READ  سندھ حکومت سیلاب سے ممکنہ متاثرین کی امداد کیلئے فوری اقدامات کرے, بلاول

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق کچے کے علاقے کے لوگ ان حالات سے نمٹنے میں کافی تجربہ کار ہیں، اور امید ہے کہ 8 لاکھ کیوسک کے ممکنہ ریلا بھی بخیریت گزر جائے گا۔ سندھ کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے، عمر کوٹ، تھرپارکر اور ٹنڈو محمد خان میں بارش ہو رہی ہے جبکہ کراچی میں ہلکی بوندا باندی کے بعد جمعرات تک تیز بارش کا امکان ہے۔ 9 ستمبر کو گڈو بیراج پر پانی کی سطح اپنے عروج پر پہنچنے کا امکان ہے۔

سیہون اور دیگر دریائی بیلٹس میں مقامی افراد کو علاقہ خالی کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کچے کے علاقوں سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ فی الحال وفاقی حکومت کی مالی امداد کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب، کہروڑ پکا، ٹبی وڈاں رتھاں والا، موچی والا اور ڈیرہ دلاور میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی تیزی سے آبادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئی ہیں اور مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر رہے ہیں۔

ملتان کے شیر شاہ فلڈ بند کے اندر موجود دیہات میں کھڑا پانی گھروں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور مسلسل بارش کے باعث متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سی پی او ملتان کے مطابق جلال پور پیروالا میں پاک فوج کے تعاون سے ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں فوج کی 14 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

READ  جلال پور شہر کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے اوچ شریف روڈ میں شگاف ڈال دیا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں