اسپین کا روس کی طرح اسرائیل پر بھی کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی کا مطالبہ

Spain calls for Israel to be banned from participating in sporting events

اسپین نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کے خلاف اسرائیل پر کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جائے۔

اسپین کی وزیر برائے کھیل پلر ایلگریا نے کہا ہے کہ اسرائیلی ٹیموں پر بھی ویسی ہی پابندیاں عائد کی جائیں جو یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد روسی ٹیموں پر لگائی گئی تھیں۔

ہسپانوی وزیر نے اسرائیل پر پابندیاں نہ لگانےکے عمل کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئےکہا کہ اس دوہرے معیار کی وضاحت کرنا مشکل ہے، غزہ میں قتل عام ہو رہا ہے اور وہاں کی صورتحال روز بروز مزید خراب ہورہی ہے، کھیلوں کی عالمی تنظیموں اور کمیٹیوں کو 2022 جیسا فیصلہ کرنا چاہیے جب روس پر یوکرین پر حملہ کرنے کی پاداش میں پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں کے بعد کوئی روسی قومی ٹیم بین الاقوامی مقابلوں میں شریک نہیں ہوسکی تھی، نہ عالمی مقابلوں میں روسی قومی ترانہ بجایا گیا تھا، اگر روسی کھلاڑی حصہ لیتے بھی تھے تو وہ انفرادی حیثیت میں تھا، نہ تو وہ روس کا پرچم اٹھاسکتے تھے نہ ان کے لیے روسی ترانہ بجایا جاتا تھا۔

خیال رہے کہ سائیکلنگ گرینڈ ٹور وولٹا آ اسپانہ میں اسرائیلی ٹیم کی موجودگی کے خلاف اسپین میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا ہے۔

اسپین کی حکومت غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کو نسل کشی‘قرار دیتی ہے اور اس حوالے سے اسرائیل پر مختلف پابندیاں بھی لگاچکی ہے۔

READ  مودی حکومت کا گیمنگ بل بھارتی کرکٹ بورڈ کے گلے پڑ گیا، ڈریم 11 سے 358 کروڑ کا معاہدہ ختم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں