کاسمولوجی یا علم کائنات ہماری عظیم الشان دنیا سے متعلق کچھ بنیادی سوالات کے جواب ڈھونڈنے میں ہماری مدد کرتا ہے…مثلاً کائنات کا آغاز کیسے ہوا؟ اور یہ کیونکر ختم ہوگی؟
کئی دہائیوں سے سائنس داں کائنات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی اور سائنسی بصیرتوں کا استعمال کرتے وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہماری کائنات کے آغاز میں کیا ہوا تھا۔ وہ اتنی دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کی روشنی زمین تک پہنچنے میں اربوں سال لگتے ہیں۔ یوں وہ دراصل وقت میں پیچھے دیکھتے ہیں جب کائنات اپنی شیر خوار حالت میں تھی۔
افسوس ماضی میں پیچھے دیکھنے کی بھی ایک حد ہے۔ ستارے کائنات بننے کے چند لاکھ سال بعد ہی چمکنا شروع ہوئے ۔ ہم جتنا پیچھے جائیں، اتنا ہی اولیّں ستاروں کے آثار اْن پھٹتے ہوئے فلکیاتی اجسام اور ٹکراتی کہکشاؤں نے مٹا دیے جو بعد میں وجود میں آئیں۔مزید پیچھے جائیں تو بگ بینگ تمام نشان غائب کر دیتا ہے … وہ عظیم وقوعہ جس سے سمجھا جاتا ہے کہ ہماری کائنات تخلیق ہوئی۔
لہٰذا وقت میں پیچھے دیکھنے کے بجائے شاید جوابات آگے دیکھنے سے مل سکیں۔ اگر ہم کائنات کا انجام سمجھ لیں، تو کیا ہم اس کے آغاز کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں؟امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کے پروفیسر ہنری ٹائے اْن نظریاتی طبیعیات دانوں میں شامل ہیں جو ہماری کائنات کی آخری تقدیر کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کائنات کے جدید ترین مشاہدات کی مدد سے ٹائے اور اْن کی ٹیم نے کائنات کے تفصیلی ماڈل تیار کیے ہیں۔ پھر وہ وقت کو اربوں سال آگے چلاتے ہیں تاکہ جان سکیں، کائنات کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے۔
یہ سمیولیشنز یا ماڈل بگ بینگ سے شروع ہوتے ہیں جس نے 13.8 ارب سال پہلے کائنات کا آغاز کیا۔ موجودہ سائنسی سمجھ کے مطابق تب سے خلا پھیل رہا اور کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے دور لے جا رہا ہے۔ ابتدا میں ماہرینِ فلکیات کا خیال تھا کہ یہ پھیلاؤ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہو جائے گا جس کے نتیجے میں دو ممکنہ انجام سامنے آئے۔
پہلا منظرنامہ یہ کہ آخرکار کائنات کا پھیلاؤ اتنا سست ہو جائے گا کہ وہ ہر چیز کو کھینچ کر یکجا کرنے والی کششِ ثقل سے شکست کھا جائے ۔ تب پھیلاؤ الٹنا شروع ہوگا اور کائنات سکڑتے سکڑتے واپس ایک عظیم دباؤ میں سمٹ جائے گی جیسے کہ بگ بینگ سے قبل تھی۔ یہ نظریہ’’ بگ کرنچ ‘‘(Big Crunch)کہلاتا ہے۔
دوسرا منظرنامہ یہ کہ پھیلاؤ کائنات کو اتنا دور تک پھیلا دے گا کہ کششِ ثقل کبھی اسے روک نہ سکے۔ مادہ اور توانائی ایک دوسرے سے دور ہوتے ہوتے اتنے بکھر جائیں گے کہ وہ ستاروں یا کہکشاؤں کی تشکیل بھی نہ کر سکیں گے۔ یوں کائنات ایک بڑے ابدی جمود ’’ بگ فریز‘‘ (Big Freeze) میں داخل ہو جائے گی۔
1990ء کی دہائی کے آخر میں فلکیات دانوں نے یہ دریافت کیا کہ سست ہونے کے بجائے ہماری کائنات کا پھیلاؤ درحقیقت تیز ہو رہا ہے۔ کوئی ایسی چیز تھی جو کائنات کو پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلا رہی تھی۔ یہ جانے بغیر کہ وہ چیز کیا ہے، سائنس دانوں نے اس کو’’سیاہ توانائی‘‘ (Dark Energy) کا نام دیا۔ٹائے کہتے ہیں ’’آج ہماری کائنات کا تقریباً 70 فیصد حصہ سیاہ توانائی پر مشتمل ہے۔‘‘





تبصرے بند ہیں