کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے نقصانات سے بچانے کیلئے کیا اقدامات کیے؟ وفاقی حکومت سے جواب طلب

Federal government sought answers

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال میں نقصانات روکنے کے حوالے سے اقدامات سے متعلق جواب طلب کر لیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کم عمر بچے شنواری کی والد کے ذریعے دائر درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا درخواست گزار کے مطابق عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق دنیا بھر میں قوانین بنے ہیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے دو صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ 3 مارچ تک جواب جمع کرائے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے نقصانات روکنے کے حوالے سے کیا اقدامات کیے گئے، سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق بھی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیرا وائز کمنٹس دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا ریگولیشن، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عملدرآمد کی رپورٹ دیں۔

عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے بتایا جائے کہ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیا ریگولیٹری فریم ورک بنایا گیا، بچوں کی (سوشل میڈیااستعمال) عمر کے جائزے کے مکینزم پر اقدامات سےبھی آگاہ کریں۔

ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہمیت کا حامل ہے، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ کے حوالے سے بھی آگاہ کریں، بغیر ریگولیشن کے سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے خطرناک ہے۔

READ  پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن کا آغاز

عدالت کا کہنا ہے کہ بغیر ریگولیشن بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے ذہنی امراض کے مسائل ہیں، بغیر ریگولیشن بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پرائیویسی کی خلاف ورزی کا مسئلہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں