فیس بک سے کمائی کا نیا موقع، میٹا کا کریئیٹرز کےلیے خصوصی پروگرام متعارف

New opportunity to earn from Facebook

دنیا کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک سے آمدنی حاصل کرنے کے خواہشمند صارفین کے لیے ایک نیا دروازہ کھل گیا ہے، جہاں میٹا نے باقاعدہ ایک ایسا پروگرام متعارف کرا دیا ہے جس کا مقصد دیگر پلیٹ فارمز کے کامیاب کریئیٹرز کو اپنی جانب راغب کرنا ہے۔

اس نئے اقدام کے تحت کمپنی نے ’’کریئیٹر فاسٹ ٹریک پروگرام‘‘ شروع کیا ہے، جس کے ذریعے ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر مقبول صارفین کو فیس بک پر نہ صرف زیادہ رسائی دی جائے گی بلکہ انہیں مالی فوائد بھی فراہم کیے جائیں گے۔

اس پروگرام کا بنیادی ہدف ایسے کریئیٹرز کو اپنی طرف لانا ہے جو پہلے ہی دیگر پلیٹ فارمز پر مضبوط فالوونگ رکھتے ہیں۔

پروگرام کی تفصیلات کے مطابق اگر کسی صارف کے انسٹاگرام، ٹک ٹاک یا یوٹیوب پر ایک لاکھ فالوورز ہیں تو اسے ماہانہ ایک ہزار ڈالرز تک کمائی کا موقع دیا جائے گا، جبکہ ایک ملین یا اس سے زائد فالوورز رکھنے والے افراد کو تین ہزار ڈالرز ماہانہ تک ادائیگی کی پیشکش کی جائے گی۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی ویڈیوز اور دیگر مواد کو فیس بک پر بھی باقاعدگی سے شیئر کریں۔

یہ مالی سہولت ابتدائی طور پر تین ماہ تک یقینی ہوگی، جس کے بعد کامیاب کریئیٹرز کو فیس بک کے مستقل مونیٹائزیشن پروگرام تک رسائی دی جائے گی، جہاں انہیں مزید آمدنی اور وسیع تر ناظرین تک پہنچنے کا موقع حاصل ہوگا۔

اس پروگرام میں شامل ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی رکھی گئی ہے کہ صارفین کو 30 دن کے اندر کم از کم 15 ریلز شیئر کرنا ہوں گی، اور یہ ویڈیوز کم از کم 10 مختلف دنوں میں اپ لوڈ کی جائیں۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ مواد صارف کا اپنا تخلیق کردہ ہونا چاہیے، چاہے اسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ہی کیوں نہ تیار کیا گیا ہو۔

READ  واٹس ایپ ویب ورژن کے لیے اہم فیچر پر کام جاری

یہ اقدام اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت میٹا فیس بک کو دوبارہ کریئیٹرز کے لیے پرکشش بنانا چاہتا ہے، کیونکہ اگرچہ پلیٹ فارم کے صارفین کی تعداد 3 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم بڑے کریئیٹرز کی ترجیح اب بھی دیگر پلیٹ فارمز ہیں۔

کمپنی کے مطابق 2025 کے دوران کریئیٹرز کو مجموعی طور پر 3 ارب ڈالرز ادا کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہیں، اور ان میں سے 60 فیصد ادائیگیاں ریلز سے متعلق مواد پر کی گئیں، جو اس فیچر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں