دھمکیوں اور ناکہ بندی کے دوران جبری مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے: ایرانی صدر

Will not engage in forced negotiations amid threats and blockade: Iranian President

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ماضی میں کیے گئے امریکا سے مذاکرات نے ہماری بداعتمادی میں اضافہ کیا ۔

ایران حکومت کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

اس موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے امریکا سے مذاکرات نے بداعتمادی میں اضافہ کیا، دھمکیوں اور ناکہ بندی کے دوران جبری مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک جارحانہ اقدامات ختم نہیں کیے جاتے، اعتماد بحال نہیں ہوسکتا، مذاکرات بحال کرنےکے لیے امریکارکاوٹیں ہٹائے اوربحری ناکہ بندی ختم کرے۔
اس کے علاوہ ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پرتبادلہ خیال کیا اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پربھی تفصیلی بات چیت کی۔

حکومت پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں منعقدہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی شرکت کو سراہا اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد اسلام آباد بھیجنے کا بھی خیرمقدم کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطوں اور قریبی مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ صدر پزشکیان نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار کی امن کاوشوں میں اہم کردار پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات مستقبل میں مزید مستحکم اور وسیع ہوں گے۔

READ  روس کے ایک بار پھر یوکرین پر ہائپر سونک میزائلوں سے حملے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں