امریکی میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارت سے شروع ہونے والی ایک جھوٹی خبر نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی سطح پر غلط تاثر پیدا کیا اور عالمی رہنماؤں کو گمراہ کیا۔
دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 5 اگست کو بھارت کے ایک گمنام سماجی میڈیا اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل اور امریکا کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، ایران بھی جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش سے دستبردار نہیں ہو گا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دعوے کی کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی کوئی ثبوت موجود ہے کہ جنرل وحیدی نے ایسا بیان دیا تھا، ایران کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔
دی نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ جعلی بیان پہلے بھارتی سماجی میڈیا اکاؤنٹس پر پھیلا، پھر اسرائیلی اکاؤنٹس اور ایک اسرائیلی ٹی وی چینل نے اسے نشر کیا، اسرائیلی چینل نے اسے ایران کی جانب سے جوہری بم بنانے کی کوشش کا پہلا کھلا اعتراف قرار دیا۔
چند ہی گھنٹوں بعد یہ دعویٰ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی یروشلم میں تقریر کا حصہ بن گیا۔
تقریر میں نیتن یاہو نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر وحیدی نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری جاری رکھنے کے ارادے کا واضح اعلان کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق بعد ازاں یہ جھوٹا دعویٰ امریکا تک پہنچ گیا، اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز اور فلوریڈا کے ریپبلکن سینیٹر رک اسکاٹ نے اسے سماجی میڈیا پر ری شیئر کیا، امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز نے بھی اسے ایران کے جوہری عزائم کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔
فاکس نیوز کے میزبان بل ہیمر نے سابق امریکی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل سے گفتگو کے دوران یہ بیان پڑھ کر سنایا اور اسے ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کا اعتراف قرار دیا۔
تاہم بعد میں اس دعوے کی صداقت پر سوالات اٹھنے لگے، مائیک والٹز کی جانب سے کیا گیا پیغام سماجی میڈیا سے ہٹا دیا گیا جبکہ فاکس نیوز نے جمعرات کو وضاحت کی کہ اسے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ بیان غیر مصدقہ اور من گھڑت تھا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے مطابق اس جھوٹے بیان کی پہلی اشاعت بھارت کے ایک ایسے اکاؤنٹ سے ہوئی جس کے تقریباً 175,000 فالوورز ہیں اور جس پر پہلے بھی جھوٹی اور اسلام مخالف معلومات پھیلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔






تبصرے بند ہیں