ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دماغ میں نکاسی کے راستوں (ڈرینیج پاتھ ویز) میں رکاوٹ الزائمر کی بیماری کی ایک وارننگ ہو سکتی ہے۔
سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی(این ٹی یو) کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ خون کی نالیوں کے گرد موجود ’نکاسی کے راستے‘ سیریبرواسپائنل فلوئیڈ سے بھرے ہوتے ہیں جو اعصابی فضلہ خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم شریانوں کی سختی اور ہائی بلڈ پریشر اس راستے میں خلل ڈال سکتا ہے اور اس کی وجہ سے شریانوں میں فضلہ جمع ہونے لگتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو یہ نکاسی کے راستے، (پیری واسکولر اسپیسز) پھیل جاتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ پھیلی ہوئی پیری واسکولر اسپیسز(ای پی وی ایس) ان افراد میں زیادہ پائی جاتی ہیں جن میں الزائمر کی ابتدائی علامات ظاہر ہو رہی ہوں۔
این ٹی یو کے لی کونگ چیان اسکول آف میڈیسن سے وابستہ اور اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ناگےندرن کندیا کے مطابق دماغ کی یہ غیر معمولی تبدیلیاں معمول کے ایم آر آئی اسکینز میں دیکھی جا سکتی ہیں جو یادداشت اور ذہنی صلاحیت میں کمی کے جائزے کے لیے کیے جاتے ہیں، اس لیے ان کی شناخت الزائمر کی جلد تشخیص میں موجودہ طریقوں کے ساتھ معاون ثابت ہو سکتی ہے جو بغیر اضافی ٹیسٹ کروانے اور ان پر اخراجات کے ہوسکتے ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف اور ایل کے سی میڈیسن کے طالب علم جسٹن اونگ کے مطابق الزائمر کی ابتدائی تشخیص انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے ڈاکٹروں کو بروقت علاج کا موقع ملتا ہے، جس سے یادداشت میں کمی، سوچنے کی رفتار میں سستی اور مزاج میں تبدیلی جیسے مسائل کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ای پی وی ایس اور الزائمر کے درمیان تعلق واضح نہیں تھا، اس لیے این ٹی یو کی ٹیم نے ای پی وی ایس کا موازنہ الزائمر کی بیماری کے دیگر تسلیم شدہ انڈیکیٹرز سے کیا۔






تبصرے بند ہیں