امریکا کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم کے مستعفی ڈائریکٹر جو کینٹ کا انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ کی مخالفت کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھ چارلی کرک پر اسرائیلی نواز ڈونرز کی طرف سے شدید دباؤ تھا۔
اپنے ایک بیان میں جو کینٹ نے کہا کہ چارلی کرک ٹرمپ کے بڑے حمایتی تھے، انھوں نے آخری ملاقات میں مجھے کہا کہ ہمیں ایران کے ساتھ جنگ میں جانے سے روکو اور پھر اچانک اسے سر عام قتل کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ قتل کے بعد جو میسجز سامنے آئے اس میں چارلی پر اسرائیلی نواز ڈونرز کے دباؤ کا پتہ چلتا ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے لیکن ہمیں تحقیقات سے روکا گیا۔
مزید براں جو کینٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے جلد ایٹمی ہتھیار کی تیاری کے دعوے کو بھی مسترد کردیا۔






تبصرے بند ہیں