اس وقت جب یورپی اور مغربی ممالک سخت گرمی کی لپیٹ میں ہیں چین نے اپنے شہروں کو بغیر اے سی ٹھنڈا کرنے کی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس کا حالیہ اثر یورپی اور مغربی ممالک میں نظر آ رہا ہے، جہاں غیر معمولی اور قیامت خیز گرمی نے ہزاروں افراد کی جان لے لی ہے۔
ایسے میں جب یورپی ممالک جہاں پہلے اے سی کا رواج نہیں تھا وہاں شہری اے سی خریدنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے لیے سپر اسٹورز میں مارا ماری بھی ہو رہی ہے۔
ان حالات میں چین نے ایسا حیرت انگیز منصوبہ متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے شدید گرمی اب اس کے شہریوں پر اثر انداز نہیں ہو سکے گی، کیونکہ شہر ہی گرم نہیں ہوں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین نے شہری علاقوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک منفرد نظام متعارف کرایا ہے، جسے ’روف ٹاپ رین‘ کا نام دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی چین کے صوبہ شانشی کے شہر یونچینگ میں متعدد بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر خصوصی مسٹنگ سسٹم نصب کیے گئے ہیں، جو فضا میں نہایت باریک پانی کے ذرات خارج کرتے ہیں۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ اس نظام سے عمارت کے اردگرد کا درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ نظام ’ایواپوریٹو کولنگ‘ کے سائنسی اصول پر کام کرتا ہے۔ چھتوں پر نصب ہائی پریشر نوزلز پانی کے انتہائی باریک قطرے فضا میں چھوڑتے ہیں، جو گرم ہوا سے ملتے ہی بخارات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
اس عمل کے دوران یہ اردگرد کی حرارت بالکل اسی طرح جذب کر لیتے ہیں، جیسے انسانی جسم پر پسینہ بخارات بن کر جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے۔






تبصرے بند ہیں