شارٹ ویڈیوز: سہولت یا ذہنی صحت کے لیے خطرہ؟ ماہرین کی وارننگ

Convenience or mental health risk? Experts warn

آج کے ڈیجیٹل دور میں مختصر دورانیے کی ویڈیوز جیسے ٹک ٹوک، انسٹاگرام ریلز اور یوٹیوب شورٹز نوجوانوں اور بڑوں دونوں کے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق چند سیکنڈ کی یہ تیز رفتار ویڈیوز توجہ، یادداشت اور ذہنی توازن کو متاثر کر رہی ہیں۔ ایک عالمی تحقیقی جائزے میں 98 ہزار سے زائد افراد کے تجزیے سے ثابت ہوا کہ مختصر ویڈیوز کا زیادہ استعمال توجہ میں کمی، ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن جیسے مسائل کا باعث بنتا ہے۔
چین میں کالج طلبہ پر کی گئی ایک تحقیق میں بھی انکشاف ہوا کہ مختصر ویڈیوز کے عادی نوجوانوں میں بے چینی اور منفی نفسیاتی علامات نمایاں طور پر زیادہ پائی گئیں۔

بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز گرافکس اور مسلسل بدلتے مناظر دماغ کے انعامی نظام کو متحرک کرتے ہیں، جس سے فوری تسکین کی خواہش اور اسکرین وقت میں اضافہ ہوتا ہے، جو نشہ آور عادتوں سے مشابہ ہے۔

تاہم بعض تحقیقات کے مطابق عمر رسیدہ افراد میں مختصر ویڈیوز خاندانی روابط مضبوط کرنے اور تنہائی کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں
ماہرین صحت کے مطابق ویڈیوز کا استعمال بذاتِ خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن اور غیر ضروری استعمال منفی اثرات پیدا کرتا ہے۔ ماہرین نے صارفین کو اسکرین وقت محدود رکھنے، مثبت مواد منتخب کرنے اور حقیقی زندگی میں توازن برقرار رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

READ  دنیا کا سب سے زیادہ شور شرابے والا خطہ کونسا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں