معروف یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید چار روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ انہیں لاہور کی ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے مزید ریمانڈ کی درخواست کی، جو عدالت نے یکم ستمبر تک منظور کر لی۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور گزشتہ ریمانڈ کے دوران کئی نئے نام سامنے آئے ہیں، جن کی مکمل تفصیل اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے گی۔ تاہم، یوٹیوبر کے وکیل چوہدری عثمان علی نے ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کی۔
تفتیشی رپورٹ کے مطابق، ڈکی بھائی اور دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر الزام ہے کہ انہوں نے مالی مفاد کے لیے آن لائن جوئے کی ایپس کی تشہیر کی، جن سے عوام کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ڈکی بھائی کے یوٹیوب اکاؤنٹ سے ایسی 27 ویڈیوز کے لنکس حاصل کیے گئے جن میں ان پلیٹ فارمز کی پروموشن کی گئی تھی، تاہم کئی ویڈیوز بعد میں حذف کر دی گئیں۔
ایف آئی آر میں انہیں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی مختلف دفعات، بشمول دفعہ 13 (الیکٹرانک جعل سازی)، 14 (الیکٹرانک فراڈ)، 25 (اسپیم) اور 26 (اسپوفنگ) کے تحت نامزد کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 294-B اور 420 بھی شامل کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ ڈکی بھائی کو 16 اگست کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، اور اب تک ان کا جسمانی ریمانڈ متعدد بار بڑھایا جا چکا ہے۔ وہ مزید چار دن حکام کی تحویل میں رہیں گے۔






تبصرے بند ہیں