بھارت: مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیاں، اتر پردیش میں ایک مدرسہ مسمار، 2 بند

Discriminatory acts against Muslims

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں اور امتیازی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی جریدے دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں سرکاری زمین پر قبضے کے الزام میں ایک مدرسے کو مسمار اور دو دیگر مدارس کو بند کر دیا گیا۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ادارہ 2000 سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور اس کے تمام قانونی دستاویزات مکمل اور درست ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندو رکشا دل کے صدر پنکی چوہدری نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مطالبہ کیا کہ دارالعلوم دیوبند کے خلاف بھی بلڈوزر کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب دہرادون میں ایک مسجد پر عائد پابندی کے بعد بعض انتہاپسند عناصر نے مسجد کے باہر ہندو مذہبی رسومات کا آغاز کردیا جس پر مقامی سطح پر بحث اور ردعمل سامنے آیا ہے۔

READ  غزہ پر اسرائیل کے حملے جاری، امداد کے منتظر 10 افراد سمیت مزید 54 فلسطینی شہید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں