بھارت: مذہبی جلوس میں دیوی کا وزنی مجسمہ اٹھانے والا ہاتھی بے قابو، بھگدڑ مچ گئی

بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو مذہبی تہوار کے دوران 650 کلو وزنی دیوی کا مجسمہ اٹھانے والا ہاتھی اچانک بے قابو ہو گیا، جس کے باعث جلوس میں افراتفری پھیل گئی اور سیکڑوں افراد جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔

واقعہ بدھ کے روز کرناٹک کے شہر شیواموگا میں ہندو برادری کے تہوار دسہرہ کے دوران پیش آیا، جہاں سومنا نامی ہاتھی چاندی سے بنے ہندو دیوی کے وزنی مجسمے کو اٹھائے ہوئے تھا۔

جلوس میں اچانک بدکنے کے بعد ہاتھی واپس مڑا اور آنے والے راستے پر دوڑنے لگا، خوف زدہ افراد نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں، جبکہ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
مقامی افراد کے مطابق ممکنہ طور پر کسی تیز آواز یا لوگوں کے ہجوم نے ہاتھی کو خوف زدہ کیا، تاہم اس کے بدکنے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔

صورتِ حال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب ہاتھی کی پیٹھ پر رکھا بھاری مجسمہ پھسل کر زمین پر گر گیا، جس سے اسے نقصان پہنچا۔

واقعے میں کئی گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سومنا کو اس جلوس کے لیے متبادل ہاتھی کے طور پر منتخب کیا گیا تھا، کیونکہ مجسمہ اٹھانے کے لیے مختص ہاتھی ساگر ٹانگ میں چوٹ لگنے کے باعث شریک نہیں ہو سکا تھا۔
محکمۂ جنگلات کے اہلکاروں اور ہاتھیوں کے نگراں عملے نے سومنا کو قابو کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد ازاں ویٹرنری عملے نے اسے بے ہوش کرنے والی دوا دی۔

READ  بچے قتل کرکے چُھٹیاں منانے آجاتے ہو! ریسٹورنٹ کے ملازم نے اسرائیلیوں کو نکال دیا، ویڈیو

ہاتھی کو قریبی مندر منتقل کیا گیا، جہاں اس کی دیکھ بھال کی گئی، جبکہ جلوس اس کے بغیر جاری رہا۔

واقعے کے بعد مذہبی تقریبات میں ہاتھیوں کی فلاح و بہبود اور حفاظت سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

کرناٹک کے وزیر جنگلات رامالنگا ریڈی نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ حفاظتی انتظامات مزید سخت کیے جائیں اور بڑے عوامی اجتماعات میں شرکت سے قبل ہاتھیوں کو کم از کم 20 دن کی تربیت دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں