پیرس: نابالغ لڑکیوں سے جنسی زیادتی و گھناؤنے جرائم میں ملوث بھارتی شخص پر مقدمہ

Indian man charged with sexual assault of underage girls and other heinous crimes

پیرس میں بھارتی شہری روہن سندیپ رانے کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی جس پر نو نازی نظریات رکھنے والے آن لائن گروہ کی سربراہی اور نابالغ لڑکیوں کو جنسی زیادتی اور تشدد پر مجبور کرنے کے الزامات ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 29 سالہ روہن سندیپ رانے کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

نیوز ایجنسی کے مطابق روہن کی سربراہی میں قائم گروہ نے امریکا، برطانیہ، نیدر لینڈز، ایسٹونیا اور دیگر ممالک کی کم عمر لڑکیوں کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے نشانہ بنایا۔

ملزمان لڑکیوں سے نازیبا تصاویر حاصل کر کے انہیں اہلِ خانہ اور دوستوں کو تصاویر بھیجنے کی دھمکی دیتے اور بلیک میل کرتے تھے۔
یہ معاملہ 2020ء میں اس وقت سامنے آیا جب امریکی قومی مرکز برائے ’گمشدہ اور استحصال زدہ بچوں‘ کو 12 سالہ لڑکی کی نازیبا تصویر ملی۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ گروہ کے ارکان خود کو جنگجو کہتے تھے۔

خبر ایجنسی کے مطابق گروہ پر متاثرین، گواہوں اور امریکی استغاثہ کو دھمکانے کے الزامات بھی ہیں جس کے باعث روہن سندیپ رانے کے خلاف سماعت کا آغاز گزشتہ روز بند کمرے میں ہوا تھا۔

روہن سندیپ کو 2021ء میں گرفتار کیا گیا تھا، اس پر نابالغوں پر تشدد، منظم بھتہ خوری اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد پھیلانے سمیت سنگین الزامات عائد ہیں۔

گروہ کے ایک رکن کیلب کرسٹوفر میرٹ کو امریکا میں بچوں سے جنسی جرائم کے الزام میں پہلے ہی 50 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

READ  شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب روپے ہرجانہ کیس، عطا تارڑ گواہی کیلئے پیش

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں