اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کی برآمدگی سے متعلق پولیس انکوائری مکمل کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں گدھے کا گوشت مقامی سطح پر سپلائی کیے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ برآمد شدہ گوشت اور کھالیں دراصل چین بھیجے جانے کی غرض سے تیار کی جا رہی تھیں۔
چند روز قبل اسلام آباد میں ایک غیر قانونی مذبحہ خانے پر انتظامیہ نے چھاپہ مارا تھا، جہاں سے متعدد گدھے اور ان کا گوشت قبضے میں لیا گیا۔ اس مذبحہ خانے کا چینی شہری مالک گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق گدھوں کی باقیات اور ہڈیاں سیکٹر C-16 میں تلف کی گئیں، جبکہ یہ گدھے فیصل آباد سے لائے گئے تھے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ 17 دنوں میں صرف 15 گدھے ذبح کیے گئے، اور ان کا گوشت و کھالیں گوادر پورٹ کے راستے چین بھیجنے کا منصوبہ تھا۔
مزید تحقیقات کے دوران گودام کرایے پر فراہم کرنے والے مالک فیاض اور پراپرٹی ڈیلر عامر کو ٹیکسلا سے گرفتار کیا گیا، جنہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم، متعلقہ دفعات کے تحت یہ ایک قابل ضمانت جرم ہے۔





تبصرے بند ہیں