تحریر : امتیاز احمد شاد
آج ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے بدترین دشمن سمجھے جاتے ہیں، مگر تاریخ کا ایک ایسا باب بھی موجود ہے جب دونوں ممالک نہ صرف ایک دوسرے کے قریبی اتحادی تھے بلکہ انہوں نے خفیہ معاہدوں، انٹیلیجنس تعاون، اور یہاں تک کہ محدود پیمانے پر جنگی مشقوں میں بھی شمولیت اختیار کی۔
ہم اس حیرت انگیز اور کم معروف تاریخی تعلق کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
ابتدائی تعلقات: ایک اسٹریٹجک مفاہمت1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد ایران نے اسے رسمی طور پر تسلیم تو نہیں کیا، مگر عملی طور پر تعلقات قائم کیے۔ ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ لیکن مضبوط تعلقات استوار کیے جو 1979 کے اسلامی انقلاب تک جاری رہے۔
دونوں ممالک عرب قوم پرستی (خصوصاً مصر، عراق، شام) سے خوفزدہ تھے۔
سوویت یونین کے اثر کو محدود کرنا مشترکہ مفاد تھا۔
امریکہ اور مغرب کی حمایت دونوں ممالک کو حاصل تھی۔
خفیہ معاہدے اور انٹیلیجنس شیئرنگ
موساد اور ساواک کی شراکت:
اسرائیلی موساد اور ایرانی ساواک کے درمیان قریبی تعاون تھا۔
موساد نے ساواک کے اہلکاروں کو اسرائیل میں ٹریننگ دی۔
مشترکہ انٹیلی جنس آپریشنز میں عراق میں کرد باغیوں کی حمایت شامل تھی۔
مشترکہ منصوبے:
اسرائیل نے ایران کو نگرانی، انسدادِ بغاوت اور ٹیکنیکل آلات فراہم کیے۔
ایران نے بدلے میں اسرائیل کو سستا تیل مہیا کیا۔
تیل، معیشت، اور انفراسٹرکچر
تیل کا خفیہ نیٹ ورک:
1968 میں Eilat-Ashkelon Pipeline منصوبہ شروع ہوا، جو ایران کے تیل کو اسرائیل تک پہنچانے کا خفیہ ذریعہ تھا۔
دیگر منصوبے:
اسرائیلی انجینئرز ایران کے زرعی اور آبی منصوبوں میں شریک تھے۔
دونوں ممالک نے مشترکہ تجارتی کمپنیوں کے ذریعے کاروبار کیا۔
جنگی مشقیں: حقیقت یا افسانہ؟
کیا ایران اور اسرائیل نے کبھی مشترکہ جنگی مشقیں کیں؟
براہ راست جنگی مشقوں کے باقاعدہ شواہد انتہائی محدود ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات مکمل طور پر خفیہ تھے۔ تاہم کچھ تاریخی حوالہ جات درج ذیل ہیں:
1. "Project Flower” (پروجیکٹ فلاور) – خفیہ دفاعی پروگرام
1977 میں ایران اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایک خفیہ دفاعی منصوبہ شروع کیا جسے "پروجیکٹ فلاور” کہا گیا۔
اس منصوبے کا مقصد ایک جدید میزائل سسٹم تیار کرنا تھا جسے دونوں ممالک استعمال کرتے۔
اسرائیل نے ایران کے لیے میزائل ٹیکنالوجی اور پرزے فراہم کیے، اور ایران نے سرمایہ کاری کی۔
اگرچہ یہ روایتی جنگی مشق نہیں تھی، مگر ایک مکمل عسکری تعاون کا مظہر تھا۔
2. اسرائیلی فوجی ماہرین کی ایران میں موجودگی
1970 کی دہائی میں اسرائیلی فوجی انسٹرکٹرز ایران میں موجود تھے۔
انہوں نے ایرانی فوجیوں کو:
جدید ہتھیاروں کی تربیت،
شورش کے خلاف اقدامات،
اور صحرائی جنگی حکمتِ عملی سکھائی۔
ان سرگرمیوں کو خفیہ رکھا گیا اور میڈیا یا سرکاری ریکارڈ میں ان کا ذکر نہیں ملتا۔
. بحیرہ احمر اور بحیرہ روم میں مشترکہ نیول کوآرڈی نیشن (غیر مصدقہ رپورٹس)
بعض مغربی صحافتی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور ایران نے 1970s میں سمندری راستوں کی سیکیورٹی کے لیے خفیہ نیول کوآرڈی نیشن کی۔
ان رپورٹس کے مطابق ایران نے خلیج فارس میں اسرائیلی ٹینکروں کو تحفظ دیا، جبکہ اسرائیل بحیرہ احمر میں معلومات شیئر کرتا رہا۔
یہ دعوے مکمل طور پر مصدقہ نہیں، مگر کئی ماہرین ان کی جزوی صداقت کو تسلیم کرتے ہیں۔
تعلقات کا اختتام: 1979 کا انقلاب
1979 میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب آیا جس کے بعد:
اسرائیل سے تمام تعلقات منقطع کر دیے گئے۔
ایران میں اسرائیلی مشنز بند کر دیے گئے۔
ایران نے فلسطین کے لیے کھلی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔
مفادات کی بنیاد پر دوستی
ایران اور اسرائیل کی ماضی کی شراکت اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دشمنی یا دوستی کا کوئی تصور نہیں — صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔
آج اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں، مگر ماضی میں ان کی دوستی خالص مفاد، سیکیورٹی، اور خطے میں اثر و رسوخ کے گرد گھومتی تھی۔





تبصرے بند ہیں