بھگت سنگھ شہید اور تحریک آزادی

Bhagat Singh martyred and the freedom movement

بھگت سنگھ: ایک انقلابی سوشلسٹ کی زندگی اور برٹش راج کے خلاف جدوجہد

تحریر:  ثوبیہ شاہ (فیصل آباد)

بھگت سنگھ ہماری تاریخ کا ایک ایسا نام ہے ۔ جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بھگت سنگھ ایک مشہور ہندوستانی انقلابی اور سوشلسٹ تھے جنہوں نے برطانوی راج کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ بھگت سنگھ پنجاب کے شہر لائل پور(موجودہ فیصل آباد) کے گاؤں "بنگے” 105 میں 27 ستمبر 1907 کو سردار کشن سنگھ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا کا نام ارجن سنگھ تھا ۔ بھگت سنگھ نے اپنی زندگی وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دی ۔وہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں ایک اہم شخصیت ، اور نوجوانوں میں بہت مقبول تھے بھگت سنگھ ایک نوجوان انقلابی تھے ۔ان کے خاندان کا سیاست اور تحریک آزادی سے گہرا تعلق تھا۔ بچپن سے ہی ان میں ملک کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا۔ شروع میں وہ گاندھی کے نظریات سے متاثر تھے لیکن بعد میں انہوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے گاوں میں ایک سکول تھا۔ جہاں بھگت سنگھ نے تعلیم حاصل کی۔ سردار کشن سنگھ کے بھائی سردار اجیت سنگھ کے انتقال کے بعد نواں کوٹ ( جو لاہور میں ملتان روڈ پر واقع ہے ) چلے گئے ۔یہاں ان کی کچھ زمینداری بھی تھی ۔ لاہور میں بھگت سنگھ کی تعلیم جاری رکھنے کا سوال اٹھا۔ عام رواج کے مطابق ایک سکھ لڑکا ہمیشہ خالصہ ہائی سکول میں داخل ہوا کرتا تھا۔ لیکن چونکہ اس سکول کے منتظمین کا شمار برٹش گورنمنٹ کے خیر خواہوں میں تھا۔ اس لیے سردار صاحب نے بھگت سنگھ کی ذہنیت کو تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے انھیں بجائے خالصہ سکول کے ڈی ۔ اے ۔ وی سکول میں داخل کیا ۔بھگت سنگھ اس سکول سے میٹرک پاس کر کے نیشنل کالج لاہور چلا گیا ۔کانگرس کا اجلاس کانپور میں قرار پایا تو بھگت سنگھ نویں درجہ میں پڑھتے تھے لیکن ان کا رحجان ان کو کھینچ کر وہاں لے گیا کالج میں بھگت سنگھ کا میل جول ہم خیال نوجوانوں ںسے سکھ دیو اور جئے گوپال سے بڑھا۔ بھگت سنگھ ابھی صرف چودہ ہی برس کے تھے کہ ان کے دل نے انہیں مادر وطن کی

Bhagat Singh martyred and the freedom movement

 

خدمت کرنے پر مجبور کیا ۔
1925ء سے 1926ء کے درمیان بھگت سنگھ نے اپنے دماغ میں اتنا کثیر علمی اور تاریخی ذخیرہ مہیا کر لیا تھا۔ جس نے ان کی باقی ماندہ زندگی میں انہیں ٹھیک راستہ دکھایا ۔ وہ لالہ لاجپت رائے کے قائم کردہ نیشنل کالج لاہور میں داخل ہوئے اور تاریخ سیاسیات اور اقتصادیات کے مطالعہ میں لگ گئے ۔ یہاں ان کے دو وفادار ساتھی سکھ دیو اور بھگوتی چرن تھے اور ان تینوں نے دو ایک مزید لوگوں کو ساتھ لے کر ایک سٹڈی سرکل روس کے انقلابی نمونے پر قائم کیا ۔ دی سرونٹس آف دی پیوپل سوسائٹی نے فیاضی کے ساتھ دوارکا داس لائیبریری سے وہ سب کتابیں دلوا دیں جو ان پرجوش طالب علموں نے چاہیں ۔ اس بارے میں نیشنل کالج کے پروفیسر چھبلیداس اور لائیبریرین مسٹر راجہ رام جیسے مشہور اشخاص کی شہادت موجود ہے ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ بھگت سنگھ کس تندہی اور شوق کے ساتھ ان کتابوں کا مطالعہ کیا کرتا تھا۔ نیشنل کالج میں سردار بھگت سنگھ کی رہنمائی سے کتابوں کا ایک حیرت انگیز ذخیرہ جمع ہو گیا جو کسی دوسرے کتب خانے میں نہیں تھا ۔
سترہ سال کی عمر تک وہ دانشورانہ بلوغت کو پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے پنجاب میں زبان کے مسئلے پر ہندی میں ایک مضمون لکھا جس پر انہیں انعام ملا۔ انہوں نے 1924اور 1925میں ’وشوپریم‘ (عالمگیر محبت) اور ’یوواک‘ کے نام سے علی الترتیب دوکتابیں لکھیں جو مٹوالا میں شائع ہوئیں۔ یہ دونوں کتابیں انہوں نے اپنے قلمی نام سے لکھی تھیں۔ انہوں نے ایک مضمون ’ہولی کے دن خون کے چھینٹے کے عنوان سے ان چھ ببراکالی انقلابیوں پر بھی لکھا تھاجن کو 1926میں سولی پر چڑھادیا گیا۔ بھگت سنگھ نے یہ مضمون ’’ایک پنجابی نوجوان‘‘ کے نام سے لکھا۔ مارکس ازم کے بارے میں ان کی وسیع معلومات اور شعوری پختگی کا سبب یہ تھا کہ دوارکا داس لائبریری میں مارکس ازم سے متعلق کافی لٹریچر پہنچتا رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ 1924کے لگ بھگ، بھگت سنگھ اس کتب خانے کے ایک بہت ہی جوشیلے اور پُرشوق قاری بن گئے تھے۔ ۔ جب ان کا رابطہ جریدہ ’’کرتی‘‘ گروپ سے بڑھا جس کا تعلق پنجاب کے غدرائٹ انقلابیوں سے تھا۔( غدرائٹ انقلابییوں("Ghadarite revolutionaries)” کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو 1913 میں قائم ہونے والی غدر پارٹی کے ارکان تھے اور ہندوستان کو برطانوی راج سے آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔) تو وہ تقریباً ایک کمیٹڈ مارکسسٹ بن چکے تھے۔ انہوں نے بڑی باقاعدگی کے ساتھ ’’کرتی‘‘ میں مختلف موضوعات مثلاً فرقہ پرستی اور اس کا حل ‘ اچھوت پن کے مسائل‘ مذہب اور ہماری جدوجہد آزدی وغیرہ جیسے مسائل پر مضامین تحریر کیے۔ اگرچہ وہ غدرائٹ انقلابیوں سے کچھ اختلافات بھی رکھتے تھے مگر اس کا تعلق انقلابی پارٹی کے پروگرام کے حوالے سے تھا۔ بھگت سنگھ اور اس کے دیگر انقلابی ساتھی پورے ملک کو خواب غفلت سے بیدار کرنے پر آمادہ ہوچکے تھے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ نوجوان نسل جرات مندی کے ساتھ قومی انقلابی کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف چلنے والی تحریک کو آگے بڑھائے۔
1924میں بھگت سنگھ کانپور سازش کیس کے تحت جیل سے رہا ہوکر لاہور آئے تھے۔ اس زمانے میں بھگت سنگھ کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے کیونکہ اس وقت وہ اور ان کے دوسرے قریبی ساتھی خود اپنی تنظیم این-بی-ایس کو ایک انقلابی جماعت بنانے میں کوشاں تھے۔ بھگت سنگھ پر یہ حقیقت واضح تھی کہ ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن(ایچ۔ایس۔آر۔اے) کے جھنڈے تلے کسانوں ، طالب علموں اور معاشرے کے دیگر انقلاب پسندوں کو جمع کرنا ضروری ہے۔
دہلی اسمبلی بم کیس کے سلسلہ میں اپنا یادگار تاریخی بیان دیتے ہوئے بھگت سنگھ نے اعلان کیا تھا ” ہم ادب کے ساتھ تاریخ کے سنجیدہ طالب علم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ” نوجوانوں پر اپنے اثرات مرتب کرنے والے بھگت سنگھ کو لاہور کی پولیس نے مئی 1927میں گرفتار کرلیا۔ ان کو اکتوبر 1926میں دسہرہ بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں قید کرلیا گیا۔ اسی زمانے میں بھگت سنگھ پنجاب میں ایک بڑی عوامی جدوجہد کا منصوبہ بنارہے تھے مگر اس سے پہلے کہ یہ عظیم منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہندوستان میں سائمن کمیشن آ دھمکا۔ 6جون 1929میں دہلی بم دھماکہ کیس کے تحت بھگت سنگھ اور بی۔کے۔دت کے بیانات کو دونوں کی پیشی کے وقت سیشن کورٹ میں پڑھ کر سنایا تھا۔ یہ بیانات تنظیم کی پالیسی کی دستاویز کی حیثیت رکھتے تھے۔ جن میں انقلابی کے اغراض و مقاصد کو بہت صراحت کے ساتھ ساتھ بیان کردیا گیا تھا۔
بھگت اور ان کے ساتھیوں نے سانڈرس قتل مقدمے کا بائیکاٹ کر دیا۔ ٹریبونل نے جس طرح بھگت سنگھ‘ راج گرو اور سُکھ دیو کو سزائے موت دی۔ اس کا کچا چٹھا اے۔جی۔نورانی نے اپنی کتاب ’’بھگت سنگھ کا مقدمہ‘‘ میں کھولا ہے، مقدمے کی کارروائی اور سزاؤں کا اعلان بالکل ایسا ہی تھا جیسے برطانوی آباد کار ہندوستانی انقلابیوں کے قتل کا حکم جاری کریں۔ بھگت سنگھ نے پھانسی سے تین دن پہلے 20مارچ کو پنجاب حکومت کو بجاطور پر لکھا تھا کہ ان کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیا جائے کیونکہ وہ برطانوی سامراج کے خلاف جنگ کررہے ہیں اس لیے انہیں پھانسی کے بجائے گولی مارکر ہلاک کیا جائے لیکن برطانوی سامراجی حکومت اتنی بزدل ثابت ہوئی کہ پھانسی کے لیے مقررہ وقت صبح چھ سے سات بجے پر قائم نہ رہ سکی۔ تمام بین الاقوامی روایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھگت سنگھ‘ راج گُرو اور سُکھ دیو کو 23مارچ 1931ء شام سات بجے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔پھانسی کے وقت آپ کی عمر 24 سال تھی۔
بھگت سنگھ نہایت قابل تعلیم یافتہ نوجوان تھا۔ اور وہ سوشلزم کی کتابوں کے پڑھنے میں خاص طور پر دلچسپی لیتا رہا بھگت سنگھ کی دلیری اور قربانیوں نے اس وقت کی فضا میں جبکہ سیاسیات میں کمزوری پیدا ہو گئ تھی بجلی کاسا کام کیا ۔
یہ بھگت سنگھ ہی تھا جس نے انقلاب زندہ باد کے نعرے پہلے پہل عدالتوں میں لگائے ۔ جس کی آواز باز گشت آج ہم سب ہندوستان کی ہر گلی کوچوں میں دوبارہ سنتے ہیں گو کہ بھگت سنگھ اب ہم میں نہیں ہے لیکن پھر بھی جب ہم انقلاب زندہ باد کا نعرہ سنتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بھگت سنگھ زندہ باد کا نعرہ بھی ہمارے کانوں میں گونج جاتا ہے۔
بھگت سنگھ کی حویلی کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ اس حویلی کو دیکھنے کے لیے بہت سے لوگ دور دراز سے آتے ہیں۔خاص طور پر سکھ حضرات کینیڈا اور بھارت سے آتے ہیں ۔ تو ہمیں بتاتے ہیں, کہ بھگت سنگھ کیا تھے ؟ کیونکہ وہ ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں اور پھر بچے ان کو دیکھتے ہیں ۔ ان کے تاثرات بچوں کو بتاتے ہیں ، کہ وہ کس سلسلے میں آئے تھے ۔ جس سے بچوں میں ایک نیا جزبہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بھی آزادی کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے ۔ بھگت سنگھ نے ایک تحریک چلائی تھی جو ان کی فکر تھی ۔ اس فکر کو آگے لے کر چلیں تو ہم یکجا ہو سکتے ہیں۔
بھگت سنگھ کی حویلی کے ( موجودہ )مالک ثاقب ورک کہتے ہیں ۔
” مزہب اور فرقے الگ الگ ہو سکتے ہیں مگر انسان تو ایک جیسے ہیں ۔ بھگت سنگھ نے انسانی نقطہ نظر سے اس تحریک کو چلایا تھا ہمیں اسی چیز کو لے کر بھارت یا کوئی بھی ملک ہو دنیا سے ایک دوسرے سے کشمکش ہے تو وہ دور ہو سکتی ہیں یہ گھر 1947 میں میرے دادا ابو فضل قادر ورک کو الاٹ ہوا تھا ۔ اس دور میں یوری دنیا سے مہمان خاص طور پر سردار حضرات تشریف لاتے تھے ۔ دو کمرے 1890ء کے بنے ہوئے ہیں ۔ اسی حالت میں موجود ہیں جو بھگت سنگھ کے والدین نے بنائے تھے ۔2014 میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر او نور الامین مینگل نے اس گھر کی تزئین و آرائش کروائی ۔ اس کی چھت خراب ہو گئ تھی ، جسے اتار کر دوبارہ کچھ شہتیر اور بالے نئے ڈالے گئے ۔ باقی کو رندہ لگا کر دوبارہ قابل استعمال بنا لیا گیا۔

READ  نیتن یاہو نے دنیا کو آئینہ دکھادیا ، تحریر : امتیاز شاد

بھگت سنگھ کے مرنے کے بعد ان کی شخصیت پر بہت سارے مصنفوں نے کالم ،مضمون ، اور کتابیں لکھی ہیں ۔
شیو ورما کی مرتب کردہ کتاب
The Slected Writings of Shaheed Bhagat Singh, National Book Centre, New Delhi 1986,
دوسری کتاب بھگت سنگھ، مصنف: دیا کشن گنجور ،سن اشاعت : 1938, موضوعات : سوانح حیات ۔
تیسری کتاب: بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی ، مصنف: احبئے گھوش ، سن اشاعت : 1984 ، موضوعات سوانح حیات اور تحریکات۔
چوتھی کتاب : شہید بھگت سنگھ اور دیگر ڈرامے، مصنف: قاضی مشتاق احمد ، سن اشاعت : 2015,
پانچویں کتاب : بھگت سنگھ منتخب تحریریں اور تقریریں ، مصنف : ڈی این گپتا ، ترجمہ : فیصل اعوان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں