ایرانی پولیس نے ایک نوجوان پاکستانی خاتون کو بازیاب کرا لیا ہے جسے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ایران لے جا کر ایک پاکستانی شخص نے زبردستی نکاح کر لیا تھا۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب یتیم لڑکی نے اپنے اہلِ خانہ کے ذریعے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو ایک ویڈیو پیغام بھیجا، جس میں اس نے مدد کی اپیل کی۔
ویڈیو پیغام میں خاتون نے کہا کہ گورنر صاحب! براہِ کرم مجھے اس شخص سے نجات دلائیں جس نے مجھ سے غیر قانونی طور پر نکاح کیا ہے۔ اگر آپ نے دو دن میں میری مدد نہ کی تو میں خودکشی کر لوں گی۔
سعدیہ کنول دختر محمد لیاقت راجپوت تقریباً ایک سالہ بچی کی ماں ہیں اور چار ماہ کی حاملہ بھی ہیں۔
گورنر سندھ کی فوری مداخلت، ایرانی وزارتِ خارجہ میں رابطوں اور ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کے بعد ایرانی پولیس نے سعدیہ کو بازیاب کرا لیا اور وہ اس وقت محفوظ تحویل میں ہیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے خاندان کو آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ایران میں سفیر مدثر ٹیپو کو ہدایت دی ہے کہ سعدیہ کو بذریعہ ہوائی جہاز کراچی بھجوایا جائے۔
گورنر سندھ نے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
سعدیہ کے والد کا انتقال 16 برس قبل جبکہ والدہ کا انتقال 6 برس قبل ہو چکا تھا۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور مالی وسائل نہ ہونے کے باعث مزید تعلیم حاصل نہ کر سکیں۔
سعدیہ کا تعلق نشتر کالونی، لطیف آباد، حیدرآباد سے تھا۔ ان کے بھائی محمد عادل راجپوت کے مطابق، سعدیہ تقریباً ڈھائی سال قبل لاپتا ہو گئی تھیں۔
محمد عادل راجپوت نے بتایا،“14 اگست 2023 کو ایک نامعلوم شخص نے ایرانی نمبر سے رابطہ کر کے دعویٰ کیا کہ اس نے میری بہن سے شادی کر لی ہے۔” ان کے مطابق دوبارہ رابطے کی کوشش کی گئی مگر نمبر بند ہو گیا۔






تبصرے بند ہیں