کرپشن کیخلاف اقدامات، وزیراعظم کا ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ کا آزادانہ جائزہ لینے کا حکم

Measures against corruption

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ کا گہرائی سے جائزہ لینے کے لیے آزاد ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ ان شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں پاکستان بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں پیچھے ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام ماضی کی روایت سے ہٹ کر ہے، جب بدعنوانی سے متعلق بین الاقوامی جائزوں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔

وزیراعظم کا ارادہ ہے کہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) 2025 میں نشاندہی کی گئی خامیوں کو صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے ذریعے دور کیا جائے۔

ایک ذریعے کے مطابق بدعنوانی ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے متحدہ قومی حکمتِ عملی درکار ہے، اور وزیراعظم ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر ایک جامع پالیسی ردِعمل تیار کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سی پی آئی 2025 میں پاکستان کی کارکردگی عالمی سطح پر ملے جلے جائزوں کی عکاس ہے۔ پاکستان نے 100 میں سے 28 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر رہا، جبکہ 2024 میں اس کا اسکور 27 اور درجہ بندی 180 ممالک میں 135 تھی۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان کا اسکور آٹھ آزاد بین الاقوامی ذرائع کے ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیا، جو سرکاری شعبے میں بدعنوانی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک ذریعے، ویریٹیز آف ڈیموکریسی پروجیکٹ، نے پاکستان کو گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر قرار دیا اور اس کا اسکور 14 سے بڑھا کر 19 کر دیا، جو سیاسی اور ادارہ جاتی شعبوں میں بہتری کے تاثر کی نشاندہی کرتا ہے۔

READ  پشاور سے کوئٹہ جانیوالی جعفر ایکسپریس کو سکیورٹی خدشات پر سبی ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا

تاہم یہ بہتری نفاذِ قانون اور قانون کی بالادستی سے متعلق اشاریوں میں نظر نہیں آئی۔ دو اہم اداروں نے پاکستان کی درجہ بندی کم کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں