رمضان المبارک میں طویل دورانیے کے روزے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں، جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔
سحری اور افطار کے درمیان کئی گھنٹے تک پانی نہ پینے کے باعث جسم پر واضح اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو بعض اوقات مختلف طبی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ اگرچہ سحری اور افطار میں مناسب مقدار میں پانی پی کر اس کمی کو کسی حد تک پورا کیا جا سکتا ہے، تاہم دن بھر کی پیاس کے اثرات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق رمضان المبارک میں افطار کے وقت بازاری اور میٹھے مشروبات کے بجائے سادہ پانی یا گھر میں تیار کردہ قدرتی مشروبات کو ترجیح دینا زیادہ مفید ہے۔ اس سے نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری ہوتی ہے بلکہ غیر صحت بخش اجزا کے مضر اثرات سے بھی بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ خصوصاً گرمیوں میں عام معمول سے زیادہ پانی پینا دماغی کارکردگی اور جسمانی توانائی برقرار رکھنے کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
اکثر افراد رمضان المبارک میں وزن کم کرنے کی نیت سے خوراک اور پانی دونوں میں غیر متوازن کمی کر دیتے ہیں، جو الٹا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ بذاتِ خود صحت کے لیے مفید ہے، بشرطیکہ اسے متوازن غذا، مناسب پانی اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کے ساتھ اپنایا جائے۔
پانی کی کمی کی چند نمایاں علامات بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کھڑے ہوتے وقت سر چکرائے یا ہلکا پن محسوس ہو تو یہ ڈی ہائیڈریشن کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح مناسب نیند کے باوجود مسلسل تھکاوٹ رہنا بھی جسم میں پانی کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ پانی جسم کو توانائی اور چستی فراہم کرتا ہے۔
بار بار بھوک لگنا یا میٹھے اور نمکین کی شدید خواہش ہونا بھی پیاس کا نتیجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض اوقات جسم پیاس کو بھوک سمجھ لیتا ہے۔ ایسی صورت میں پہلے ایک یا دو گلاس پانی پی کر دیکھنا مفید رہتا ہے۔ منہ کا خشک رہنا اور سانس کی بو بھی پانی کی کمی سے جڑی ہو سکتی ہے، کیونکہ پانی لعاب دہن کی مقدار برقرار رکھتا ہے اور منہ میں بیکٹیریا کی افزائش کو کم کرتا ہے۔






تبصرے بند ہیں