امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر فورٹ کولنز میں حالیہ دنوں ایسے خرگوش دیکھے گئے ہیں جن کے چہروں پر سینگ جیسے خوفناک ابھار نمودار ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر انہیں "فرینکینسٹائن بنی”، "شیطانی خرگوش” اور "زومبی خرگوش” جیسے القابات دیے جا رہے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ خرگوش "شوپ پیپیلوما وائرس” کا شکار ہیں، جو ایک عام اور عموماً بے ضرر وائرس ہے۔ یہ وائرس خرگوش کے چہرے پر مسے پیدا کرتا ہے جو بڑھ کر سینگ جیسے نظر آنے لگتے ہیں۔ وائرس عام طور پر پسوؤں اور ٹِکس کے ذریعے پھیلتا ہے اور گرمیوں میں اس کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔
یہ وائرس پہلی بار 1930 کی دہائی میں ڈاکٹر رچرڈ ای شوپ نے دریافت کیا تھا اور یہی تحقیق وائرس اور کینسر کے تعلق کو سمجھنے کا سبب بنی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بیماری نہ انسانوں کو متاثر کرتی ہے، نہ پالتو جانوروں کو، اور اکثر خرگوش اپنی قوتِ مدافعت سے اس سے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ تاہم اگر یہ ابھار آنکھ یا منہ کے قریب ہوں تو خرگوش کو خوراک کھانے میں دقت ہو سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بیماری مشہور جیکلوپ کہانی — ہرن کے سینگوں والے خرگوش — سے بھی جڑی ہو سکتی ہے۔





تبصرے بند ہیں