سلمان اکرم جن کے نام دیں انکی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے: اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم

Salman Akram should meet Imran Khan

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو سلمان اکرم راجہ کی فہرست میں شامل افراد کو عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پرمشتمل بینچ نے عمران خان سےجیل ملاقاتوں کی درخواستوں پر سماعت کی جس دوران ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم اورسپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جن رولز کو معطل کردیا وہ وفاق کے رولز ہیں ہی نہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد یہ رولز اب پنجاب کے جیل رولز ہیں۔
اس موقع پر سلمان اکرم نےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری توہین عدالت کی درخواستیں آج سن لیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات کی درخواست دائر ہے، 24 مارچ کو اسی لارجر بینچ نے آرڈر کیا، عدالتی آرڈر پر کسی ایک دن بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلےکےمطابق ہم ہربار نام دیتے ہیں مگر انہیں جانے کی اجازت نہیں ملتی، لسٹ میں جو نام جاتے ہیں ان میں سے باہر کا بندہ ایڈ کیا جاتا ہے۔

اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالا جیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی باقاعدہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، سلمان اکرم راجہ کی طرف سے ہمارے پاس کوئی لسٹ نہیں آئی۔

بعد ازاں عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالاجیل کو عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کے 24 مارچ کے آرڈر پرعملدرآمد کا حکم دیا۔

عدالت نے ہدایت دی کہ سلمان اکرم راجہ جو فہرست دیں گے ان کی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔

READ  لاہور ہائیکورٹ نے اسنوکرکلب کےکاروبارکو جائز اور قانونی قرار دیدیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں