میٹرک ٹیک منصوبے کو آغاز میں ہی دھچکا، داخلوں میں نمایاں کمی

significant drop in admissions

محکمہ سکول ایجوکیشن کے جانب سے میٹرک ٹیک منصوبے میں اڑھائی لاکھ بچوں کو انرول کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر تعلیمی بورڈز میں رجسٹرڈ طلبہ کی تعداد محض پچاس ہزار تک محدود رہی، جو منصوبے کی کامیابی پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

اساتذہ کے مطابق نئے میٹرک ٹیک نصاب میں طلبہ کو اضافی مضمون پڑھنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے والدین اور طلبہ اس میں دلچسپی کم دکھا رہے ہیں، اس کے علاوہ والدین کئی طلبہ کو میٹرک سائنس یا آرٹس میں منتقل کر رہے ہیں تاکہ طلبہ پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ منصوبے کے حوالے سے مناسب آگاہی نہ ملنے کی وجہ سے والدین اور طلبہ میں میٹرک ٹیک کے حوالے سے عدم دلچسپی پائی جاتی ہے۔ مزید برآں، منصوبے کی مؤثر منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے توقعات کے مطابق نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ میٹرک ٹیک کے مثبت اثرات دکھانے کے لئے مزید جامع حکمت عملی اور والدین و طلبہ کی مکمل شمولیت ضروری ہے، تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

READ  تعلیم سکول سے غیرحاضری پر وزیرِ تعلیم کا ایکشن، پرائمری ٹیچر معطل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں