دنیا کا وہ ملک جہاں ریلوے ٹریک بن گئے سولر پاور پلانٹ، حیران کن تجربہ کامیاب

The country where railway tracks have been transformed into solar power plants—a surprising experiment proves successful.

سولر پینلز عموماً گھروں، عمارتوں اور کھلے میدانوں میں نصب کیے جاتے ہیں، مگر یورپی ملک سوئٹزر لینڈ نے ماحول دوست توانائی کے حصول کے لیے ایک منفرد اور حیران کن تجربہ کرتے ہوئے ریلوے ٹریک کو ہی بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

سوئٹزر لینڈ کے علاقے بٹس (Buttes) میں اپریل 2025 کے دوران اس منصوبے کا آغاز کیا گیا، جہاں سن ویز (Sun-Ways) نامی کمپنی نے 100 میٹر طویل ریلوے ٹریک پر خصوصی سولر پینلز نصب کیے۔

اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ پینلز کو ضرورت پڑنے پر انتہائی آسانی سے نکالا اور دوبارہ نصب کیا جا سکتا ہے، جس سے ریلوے ٹریک کی مرمت یا دیکھ بھال میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی۔

منصوبے کے تحت ریلوے ٹریک پر 48 فوٹو وولٹیک سولر پینلز نصب کیے گئے ہیں، جو مجموعی طور پر 18 کلو واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق ٹرینوں کی مسلسل آمدورفت سے نہ صرف پینلز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ ان کی سطح پر جمع ہونے والی گرد بھی جزوی طور پر صاف ہوتی رہتی ہے، جس سے ان کی کارکردگی برقرار رہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2025 سے اب تک یہ سولر پینلز 16 ہزار کلو واٹ سے زائد بجلی پیدا کر چکے ہیں، جو متعدد گھروں کی سالانہ بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ آزمائشی منصوبہ 2028 تک جاری رہے گا اگرایک کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پراسی طرزکے سولر پینلز نصب کیے جائیں تو ہرسال تقریباً 200 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جو تقریباً 60 گھروں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہوگی۔

READ  امریکا کی خلاء میں ہتھیار نصب کرنے کی تصدیق

سن ویزکے مطابق اس منصوبے سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ انفرا اسٹرکچر کو بھی قابلِ تجدید توانائی کے حصول کیلئے مؤثراندازمیں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے زرعی زمین، جنگلات یا اضافی کھلے رقبے کواستعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

اس منفرد ٹیکنالوجی میں فرانس سمیت متعدد ممالک دلچسپی لے رہے ہیں اور اس کے ممکنہ استعمال پر تحقیق بھی جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں