دنیا کی پہلی جین تھراپی سے نایاب مرض میں مبتلا تین سالہ بچے نے ڈاکٹروں کو حیران کر دیا

Three-year-old boy with rare disease surprised doctors

دنیا بھر کے طبی ماہرین اس وقت حیرت زدہ ہیں جب تین سالہ امریکی بچہ اولیور چو ایک انقلابی جین تھراپی حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا مریض بن کر غیرمعمولی صحت یابی حاصل کر رہا ہے۔

اس مرض کے شدید ترین کیسز میں مریض عموماً 20 سال کی عمر سے قبل ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور اسے بعض ماہرین بچوں کی ڈیمینشیا سے بھی تشبیہ دیتے ہیں۔

جینیاتی نقص کی وجہ سے اولیور کا جسم وہ اہم انزائم تیار نہیں کر پا رہا تھا جو خلیوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے طبی ماہرین نے دنیا میں پہلی مرتبہ اس بیماری کی پیش رفت روکنے کے لیے جین تھراپی کے ذریعے اس کے خلیوں میں تبدیلی کی۔
رائل مانچسٹر چلڈرنز ہاسپٹل میں جاری اس تاریخی تجربے کی نگرانی پر مامور پروفیسر سائمن جونز نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ میں 20 سال سے اس لمحے کا انتظار کر رہا تھا کہ ہنٹر سنڈروم کا کوئی بچہ اتنی تیزی سے بہتر ہوتا دکھائی دے یہ ناقابلِ یقین ہے۔

اولیور اس تجرباتی علاج کے لیے منتخب ہونے والے دنیا کے صرف پانچ بچوں میں سے پہلا ہے۔

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے اس بچے کے خاندان نے امید کے ساتھ اس انقلابی علاج پر بھروسہ کیا اور آج ایک سال بعد اولیور کی نشوونما تقریباً عام بچوں کی طرح دکھائی دے رہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نتائج اسی رفتار سے برقرار رہے تو یہ علاج مستقبل میں ہنٹر سنڈروم سمیت متعدد موروثی بیماریوں کے علاج میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔

READ  سائنس دانوں نے دماغی بیماری پر کنٹرول پانے کا طریقہ دریافت کرلیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں