امریکا میں 60 سالہ شخص چیٹ جی پی ٹی کے تیار کردہ ڈائیٹ پلان پر عمل کرتے ہوئے اسپتال جا پہنچا۔
’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق، شخص نے نمک (سوڈیم کلورائیڈ) کے نقصانات جاننے کے بعد چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا کہ اسے خوراک سے کیسے نکالا جا سکتا ہے، جس پر اے آئی ٹول نے مشورہ دیا کہ نمک کی جگہ ’سوڈیم برومائیڈ‘ استعمال کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق سوڈیم برومائیڈ بظاہر نمک جیسا دکھائی دیتا ہے، مگر یہ ایک بالکل مختلف کیمیکل ہے جو زیادہ تر صنعتی اور صفائی کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کا زیادہ استعمال دماغی و جسمانی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، غذائیت کی تعلیم رکھنے والے اس شخص نے تجرباتی طور پر اپنی خوراک سے نمک مکمل ختم کر کے آن لائن خریدا ہوا سوڈیم برومائیڈ تین ماہ تک استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں وہ شدید پیاس، جسمانی کمزوری اور ذہنی انتشار کا شکار ہو کر اسپتال پہنچا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق، ابتدائی علاج میں فلوئڈز، الیکٹرولائٹس اور اینٹی سائیکوٹک ادویات دی گئیں، تاہم فرار کی کوشش کے بعد مریض کو نفسیاتی وارڈ منتقل کیا گیا جہاں تین ہفتے کے علاج کے بعد اس کی حالت بہتر ہوئی اور اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔
امریکن کالج آف فزیشنز جرنل میں شائع رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا کہ چیٹ جی پی ٹی سمیت دیگر اے آئی سسٹمز سائنسی طور پر غلط معلومات فراہم کر سکتے ہیں، اس لیے ان پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے۔






تبصرے بند ہیں