پاکستان میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) کی بڑی کارروائیاں
نئی قائم شدہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) نے فیصل آباد، اسلام آباد اور کراچی میں چھاپوں کے دوران غیر قانونی کال سینٹرز کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا، جن میں بڑی تعداد میں چینی شہری ملوث پائے گئے۔
فیصل آباد میں ایک ادویات ساز فیکٹری کی آڑ میں قائم کال سینٹر پر چھاپے کے دوران 12 چینی شہری گرفتار کیے گئے، جن پر بین الاقوامی شہریوں کو بینکنگ اور انشورنس کے نام پر دھوکہ دینے کا الزام ہے۔ یہ فیکٹری مقامی تاجر و سیاستدان تحسین اعوان کی ملکیت تھی۔
اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں اور کراچی کے ڈیفنس میں بھی چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 14 مزید چینی شہریوں سمیت درجنوں افراد گرفتار کیے گئے، اور لاکھوں روپے مالیت کا ڈیجیٹل ڈیٹا، کمپیوٹرز، سرورز اور جعلی سافٹ ویئرز برآمد کیے گئے۔
ایجنسی کے مطابق یہ کال سینٹرز یورپ اور امریکا کے شہریوں کو جعلی سرمایہ کاری اور قرضوں کی اسکیموں کے ذریعے نشانہ بنا رہے تھے، اور 2025 کے پہلے چھ ماہ میں اندازاً 5 کروڑ ڈالر سے زائد کی دھوکہ دہی کر چکے ہیں۔
NCCIA کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے الگ کر کے جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ ٹیموں اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ فعال کیا گیا ہے۔ ادارہ ہیومن انٹیلی جنس، ڈرون نگرانی اور سائبر فورینزک کے ذریعے کارروائیاں کر رہا ہے، اور دیگر شہروں میں بھی مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ غیر ملکی ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کارروائیوں نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سائبر جرائم کے خطرے کو نمایاں کر دیا ہے۔





تبصرے بند ہیں