کیوباکی حکومت نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ وینزویلا پر امریکی حملوں کے دوران اس کے 32 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
اعلان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کیوبن مسلح افواج اور وزارت داخلہ سے تعلق رکھنے والے اہلکار شامل ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق کیوبن صدر میگوئل دیاز کانیل نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کیوبا کی مسلح افواج اور وزارت داخلہ سے وابستہ تھے اور وہ وینزویلا کی درخواست پر وہاں ایک مشن پر تعینات تھے۔
امریکی اخبار کے مطابق کیوبن حکومت طویل عرصے سے وینزویلا کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتی ہے، کیوبا کئی برسوں سے ہزاروں شہری وینزویلا بھیجتا رہا ہے جن کے بدلے اسے تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ ان شہریوں میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اہلکار اور سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہوتے ہیں۔
دسمبر میں نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوجی دباؤ میں اضافے کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اپنی ذاتی حفاظت میں کیوبن باڈی گارڈز کا کردار بڑھا دیا تھا اور وینزویلا کی فوج کے اندر مزید کیوبن کاؤنٹر انٹیلی جنس اہلکار تعینات کیے تھے، اس اقدام کا مقصد کسی ممکنہ بغاوت سے بچاؤ بتایا گیا تھا۔
اخبار کے مطابق امریکی فوجی مداخلت کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر صدر مادورو نے اپنی ذاتی سکیورٹی مزید سخت کر دی تھی اور وہ اپنے سونے کی جگہیں اور موبائل فونز بار بار تبدیل کرتے رہتے تھے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدامات گزشتہ برس ستمبر کے بعد تیز ہو گئے تھے جب امریکا نے خطے میں جنگی بحری جہاز تعینات کرنا شروع کیے اور ان کشتیوں پر حملے کیے جن کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ وہ وینزویلا سے منشیات اسمگل کر رہی ہیں۔
ممکنہ غداری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مادورو نے اپنی ذاتی سکیورٹی ٹیم میں کیوبن محافظوں کا کردار مزید بڑھا دیا تھا اور فوج کے ساتھ مزید کیوبن انٹیلی جنس افسران منسلک کیے تھے۔






تبصرے بند ہیں