تباہی کے باوجود ایران آج بھی امریکا کے آگے کیوں نہیں جھکا؟ معاشی طاقت کا راز سامنے آ گیا

Why has Iran not bowed to the US despite the devastation?

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال پیدا کر دیا ہے کہ مہینوں پر محیط حملوں، سخت معاشی پابندیوں اور اربوں ڈالر کے نقصانات کے باوجود تہران نے ہتھیار کیوں نہیں ڈالے؟ بہ ظاہر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جب کسی ملک کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو جائے تو وہ بالآخر مذاکرات یا سمجھوتے پر مجبور ہو جاتا ہے، لیکن ایران کا معاملہ اس عام تصور سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 270 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، جب کہ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت کو مرکزی بینک سے بھاری قرض لینا پڑا۔ مہنگائی، بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہریوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کیا، مگر اس کے باوجود ریاستی پالیسی میں بنیادی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس کی پہلی وجہ ایران میں قومی خودمختاری اور مزاحمت کا وہ بیانیہ ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ ایرانی قیادت کے نزدیک بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنا صرف سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ قومی وقار کا مسئلہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی مشکلات کے باوجود حکومت اپنے مؤقف کو داخلی سطح پر قومی سلامتی اور خودداری سے جوڑنے میں کامیاب رہی ہے۔

دوسری اہم وجہ ایران کی معیشت کا وہ ڈھانچا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایران پر برسوں سے پابندیاں عائد ہیں، لیکن اس کی معیشت صرف تیل پر انحصار نہیں کرتی۔ فولاد، پیٹروکیمیکل مصنوعات، معدنیات، زرعی پیداوار، ادویات، آٹو موبائل اور گھریلو برقی آلات سمیت متعدد شعبے مقامی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ صنعتیں عالمی سطح پر شاید زیادہ مسابقتی نہ ہوں، لیکن جنگی حالات میں خود انحصاری کو یقینی بناتی ہیں۔
ایران کی جغرافیائی حیثیت بھی اس کی معاشی بقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سات ممالک سے ملحقہ زمینی سرحدیں اور متعدد فعال بندرگاہیں اسے متبادل تجارتی راستے فراہم کرتی ہیں، جس کے باعث مکمل معاشی محاصرہ عملی طور پر ممکن نہیں ہو پاتا۔

READ  فرانسیسی صدر کا فلسطین کو شرائط کے ساتھ تسلیم کرنے کا عندیہ

توانائی کے شعبے میں بھی ایران نے پابندیوں کا متبادل راستہ اختیار کیا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی فروخت امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوان میں کی جا رہی ہے، جب کہ بعض لین دین کے لیے کرپٹو کرنسیوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے، جس سے پابندیوں کے اثرات کسی حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید پابندیوں کے باوجود ایران اپنی تیل کی برآمدات سے قابلِ ذکر آمدنی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

تاہم ایران کی مزاحمت کی سب سے اہم وجہ اس کا اندرونی معاشی و سیاسی ڈھانچا ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد قومی تحویل میں لی گئی صنعتوں، مذہبی فلاحی اداروں اور بعد ازاں نجکاری کے عمل نے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس میں طاقتور حلقے معیشت کے بڑے حصے پر قابض ہو گئے۔ پاسداران انقلاب آج تعمیرات، تیل، جہاز رانی، آٹو موبائل، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر اہم شعبوں میں وسیع کاروباری مفادات رکھتی ہے۔

بین الاقوامی پابندیوں نے بظاہر ایران کو نقصان پہنچایا، لیکن ناقدین کے مطابق انہی پابندیوں نے غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس اور درمیانی کمپنیوں کی اہمیت بھی بڑھا دی، جن پر پاسداران انقلاب اور اس سے وابستہ اداروں کا نمایاں اثر و رسوخ ہے۔ اسی لیے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ معاشی نظام میں حکمران اشرافیہ کے مفادات پابندیوں کے خاتمے سے زیادہ موجودہ صورتحال سے وابستہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں