دو کروڑ آبادی والے پنجاب کے سب سے بڑے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی موجودہ صورتحال ، ضروریات اور حکومتی متوقع لائحہ عمل
رہنما جماعت اسلامی قیصر شریف نے 365 ڈیجیٹل کو انٹر ویو دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کی 80فیصد آبادی پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم ہے
اٹھائے گئے سوالات کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ حکومت پنجاب کی جانب سے دی گئی ٹرانسپورٹ سہولیات کس حد تک ضرورت کو پورا کرتی ہیں ۔
شہر میں اورنج لائن روٹ پر 16اورنج ٹرینیں شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اور میٹرو بس روٹ پر 41 بسیں عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ کی بڑی سہولت فراہم کرتی ہیں جبکہ 188 سپیڈو بسیں اور 27 گرین لائن الیکٹرک بسیں بھی شہر میں موجود ہیں
سر کاری اعدادو شمار کے مطابق دو کروڑ کی آبادی رکھنے والے پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں روزانہ 6 ملین لوگ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں ۔ان میں سے بڑی تعداد نجی بسوں، ویگنوں، رکشوں اور دیگر ذرائع پر انحصار کرتی ہے۔
جبکہ اورنج لائن ٹرین سے تقریباً 1.5 لاکھ ،میٹرو بس تقریباً 1لاکھ20 ہزار ،سپیڈو بسیں 90 ہزار سے 1.5 لاکھ ،گرین/الیکٹرک بسوں سے تقریباً 17 ہزار مسافر روزانہ مستفید ہوتے ہیں ۔
اس طرح مجموعی طور پر سرکاری نظام سے روزانہ تقریباً 4 سے 5 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔لاہور میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے مسائل کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیےمزید اقدامات کی شدید اشد ضرورت ہے ۔
جن میں بس روٹس کا اضافہ کیا جاسکتا ہے خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں میٹرو یا اورنج لائن کی سہولت موجود نہیں، الیکٹرک بسوں کی تعداد کو بڑھایا جاسکتا ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی کم ہو اور شہریوں کو آرام دہ سفر ملے۔

دور دراز علاقوں کو مرکزی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے مزید فیڈر بسیں چلائی جاسکتی ہیں۔
ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی ترغیب دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہوسکے ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف حال ہی میں ایک مطالعاتی دورے پر جاپان میں موجود تھیں جہاں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بہت جلد لاہور سمیت پورے پنجاب کو جاپان جیسا انفراسٹکچر دیں گے یاد رہے کہ جاپان کی ٹرینیں اور میٹرو سروسز دنیا کی تیز ترین اور مؤثر نظاموں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہاں روزانہ لاکھوں لوگ ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔اسی طرح لندن، پیرس اور برلن جیسے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ ان شہروں میں میٹرو، ٹرام اور بسوں کا مربوط نیٹ ورک شہریوں کو آرام دہ اور وقت کی پابند سفری سہولت دیتا ہے۔
چین میں بیجنگ اور شنگھائی جیسے بڑے شہروں میں میٹرو سسٹم دنیا کے سب سے بڑے اور مصروف ترین نظاموں میں شامل ہے، جہاں روزانہ کروڑوں مسافر استفادہ کرتے ہیں۔
امریکہ میں نیویارک اور شکاگو جیسے شہروں میں سب وے اور بس سسٹم شہریوں کی بڑی ضرورت پوری کرتے ہیں۔
دو کروڑ کی بڑی آبادی والے شہر لاہور سمیت پورے پنجاب کی آبادی 2023 کے اعدادو شمار کے مطابق 12 کروڑ ہے جو کہ میکسیکو اور جاپان جیسے بڑا انفرا سٹکچر رکھنے والے ممالک کے برابر اور دنیا میں بیشتر ممالک سے کہیں زیادہ ہے
وزیر اعلیٰ پنجاب کے دعوئوں اور بڑھتے ہوئے عوامی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ حکومت لاہور سمیت پورے پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید فعال اور بہتر بنائے گی جس سے شہروں کی معیشت نظام تعلیم اور صحت ، روزگارسمیت تمام بنیادی ضروریات تک اسان عوامی رسائی ممکن ہو سکے





تبصرے بند ہیں