نئی حب کینال ٹوٹ گئی، کئی ڈیم بھر گئے، گڈاپ میں رکشے اور گاڑیاں بہہ گئیں، 9 افراد جاں بحق
کراچی میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں نے شہر کو شدید سیلابی صورتحال سے دوچار کر دیا۔ کئی ڈیمز بھر گئے، لیاری اور ملیر ندی طغیانی کے باعث دریاؤں کا منظر پیش کرنے لگیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ مکین گھروں میں محصور ہو گئے جبکہ سڑکوں پر بڑے گڑھے پڑنے سے ٹریفک نظام مفلوج ہوگیا۔ سیکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
نئی حب کینال کا تقریباً 20 میٹر حصہ ٹوٹ جانے سے کراچی کو پانی کی فراہمی بند ہوگئی۔ ندی نالوں میں طغیانی اور ڈیمز کے اوور فلو سے کئی علاقے زیرآب آگئے، مساجد سے اعلانات کیے گئے۔ جام گوٹھ ملیر کے قریب زیر تعمیر شاہراہ بھٹو کا حصہ بہہ گیا جبکہ زیرو پوائنٹ کے قریب شاہراہ میں بڑا شگاف پڑ گیا۔ میمن گوٹھ میں کھڑی فصلیں بھی برباد ہوگئیں۔
سیلابی صورتحال کے باعث ریسکیو 1122، فوج اور رینجرز نے مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے سیکڑوں شہریوں کو بچایا۔ گڈاپ ٹاؤن میں کونکر ندی میں رکشہ اور گاڑیاں بہہ جانے سے میاں بیوی اور بیٹے سمیت 4 افراد کی لاشیں مل گئیں جبکہ مزید تین افراد کی تلاش جاری ہے۔ بارشوں سے اموات کی تعداد 9 ہوگئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے این ڈی ایم اے کو سندھ حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔
کیرتھر پہاڑی سلسلے اور مضافات میں بارشوں سے تھڈو اور لٹھ ڈیم اوور فلو ہوگئے، جس کے بعد لیاری اور ملیر ندی میں دہائیوں بعد شدید طغیانی آئی۔ سعدی ٹاؤن، اسکیم 33 اور دیگر علاقوں میں سیلابی ریلے داخل ہونے سے مکانات متاثر ہوئے اور مکین گھروں میں محصور ہوگئے۔
ملیر کینٹ کو سپر ہائی وے سے ملانے والی سڑک کا ایک ٹریک بھی بند ہوگیا۔ لیاری ندی کا پانی نارتھ کراچی، یوسف گوٹھ، سہراب گوٹھ، تین ہٹی، عیسیٰ نگری، پرانی سبزی منڈی، لیاری اور مچھر کالونی سمیت کئی آبادیوں میں داخل ہوگیا جہاں بعض گھروں میں 4 سے 5 فٹ پانی بھر گیا۔
مزید برآں، نئی حب کینال جو 12 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوئی اور 13 اگست کو بلاول بھٹو نے افتتاح کیا تھا، بارش کے باعث ٹوٹ گئی، جس سے ضلع وسطی، غربی اور کیماڑی کو پانی کی فراہمی معطل ہوگئی۔






تبصرے بند ہیں