پی آئی اے کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری: وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے

Privatization of electricity distribution companies after PIA

وزیراعظم شہباز شریف نے خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیدیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے امور پر اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرپرسن نجکاری کمیشن اور دیگر متعلقہ اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قومی ائیر لائن کی نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے، خسارے کے شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔

وزیراعظم نے نجکاری کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہاکہ نجکاری کمیشن میں نجی شعبے اور مارکیٹ سے بہترین صلاحیتوں کے حامل متعلقہ افرادی قوت کو تعینات کیا جائے اور تمام تر تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی جائیں۔ پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبے کو بھی مزید بہتر بنایا جائے۔

وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹائز کرنے اور نجکاری کے حوالے سے تمام منصوبوں کا بین الاقوامی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی ہدایت کردی۔

اجلاس کو نجکاری کمیشن میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹریٹیجک نظم و ضبط، مضبوط گورننس، ادارہ جاتی استعداد کی بہتری اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شفاف روابط نجکاری کمیشن کی جاری اصلاحات کی بنیاد ہیں اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ابتدائی طور پر دو مرحلوں میں رکھا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی جبکہ دوسرے مرحلے میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری کی جائے گی۔

READ  بینک لاکر میں کئی سالوں سے رکھا گیا 50 لاکھ روپے مالیت کا سونا غائب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں