امریکی امیگریشن حکام نے چھاپے کے دوران خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

US immigration officials shoot woman dead during raid

امریکا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے ریاست منی سوٹا میں چھاپے کےدوران خاتون کوسر پر گولی مارکرہلاک کردیا ہے۔

واقعہ رہائشی علاقے میں پیش آیا۔ جہاں غیرقانونی امیگرینٹس کیخلاف آپریشن کی مخالفت میں بڑے پیمانےپر احتجاج کیا جارہا تھا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حکام نے ایک گاڑی کو روکا ہوا ہے ،اہلکار اسکی جانب بڑھتے ہیں ، اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں،گاڑی تھوڑا پیچھے ہوتی ہے اور پھر تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس دوران سامنے موجود ایک اہلکار گولی چلادیتا ہے۔فائرنگ کے کچھ ہی لمحے بعد خاتون دم توڑگئی۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق آئس حکام نے خاتون ڈرائیور سے کہا تھا کہ وہ یہاں سے چلی جائے۔ وہ گاڑی موڑ رہی تھی، ایک اہلکار سامنے موجود تھا جس نےتین سے چارگولیاں چلائیں جو ونڈ اسکرین توڑتی ہوئی خاتون کے سر میں لگیں۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے شعبے نے دعویٰ کیا ہےکہ مشتعل مظاہرین نے گاڑی سے اہلکاروں کو کچلنےکی کوشش کی تھی۔

ہوم لینڈ سکیورٹی ترجمان ٹیریشیا مک لا لین نے واقعہ کو ڈومیسٹک دہشتگردی سے تعبیر کیا۔

ان کا کہنا ہےکہ مینیا پلیس کے جنوبی علاقے میں اہلکار نے اپنی ،ساتھی اہلکاروں اور عوام کی جان کو خطرہ محسوس ہونے پردفاعی انداز سے گولی چلائی جس میں خاتون ماری گئی۔

مینیاپلیس شہر کے مئیر جیکب فریے کا کہنا ہے کہ آئس افسرنے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کی جان لے لی،امیگریشن حکام شہر میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔

مئیر جیکب فریے نے کہا کہ امیگریشن حکام خاندانوں کو تقسیم کرہےہیں۔ اور ہماری سڑکوں پر شہریوں کا قتل کیا جارہاہے۔

READ  امریکا میں کرنسی سے متعلق 232 سال بعد اہم فیصلے پر عملدرآمد ہوگیا

گورنر ٹم والز نے کہا کہ وہ لوگوں کے غم وغصے سے آگاہ ہیں۔انہوں نے مظاہرہ کرنیوالے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں،انہوں نے کہا کہ صورتحال میں نیشنل گارڈ کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

ری پبلکن کے زیر اثر کانگریس نے آئس کیلیے پچھتر ارب ڈالر کا بجٹ آئندہ چار برسوں کے لیے پچھلے برس منظور کیا تھا جو کئی ملکوں کی افواج کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد فائرنگ کے ایسے واقعات میں چار افراد کی جان لی جاچکی ہے۔

صدرٹرمپ نے شواہد پیش کیے بغیردعویٰ کیا کہ خاتون مظاہرہ کرنیوالی پیشہ ورتھی اور واقعہ کا زمہ دار بائیں بازو کے انتہاپسند ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں