مصنوعی ذہانت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے حوالے سے نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی کا صرف 10 منٹ استعمال بھی انسان کی مشکلات کا سامنا کرنے اور کام جاری رکھنے کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے، جبکہ اس پر زیادہ انحصار کرنے والے افراد مشکل کاموں میں جلد ہمت ہار سکتے ہیں۔
کارنیگی میلن یونیورسٹی، ایم آئی ٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی، یو سی ایل اے اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق فوری جوابات کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے سے آزادانہ سوچنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ تحقیق 2026ء کی کانفرنس آن لینگویج ماڈلنگ میں پیش کی گئی ہے، اس میں 1 ہزار 222 افراد کو ریاضی کے مسائل حل کرنے اور عبارت پڑھ کر سوالات کے جواب دینے کے لیے کہا گیا۔
شرکا کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک کو مصنوعی ذہانت سے مدد لینے کی اجازت دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ نے تمام سوالات خود حل کیے۔
ابتدائی طور پر اے آئی استعمال کرنے والے افراد نے بہتر کارکردگی دکھائی اور دوسرے گروپ کے مقابلے میں کم سوالات چھوڑے، تاہم جب محققین نے چیٹ بوٹس تک ان کی رسائی ختم کر دی تو پہلے اے آئی استعمال کرنے والے افراد کو اسی نوعیت کے سوالات حل کرنے میں مشکلات پیش آئیں اور ان کے جلد ہمت ہارنے کے امکانات زیادہ پائے گئے۔
3 مختلف تجربات میں بھی یہی نتائج سامنے آئے، جن میں بالترتیب 354، 667 اور 201 افراد نے حصہ لیا۔
محققین کے مطابق براہِ راست جواب حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے والے افراد میں کام جاری رکھنے کی صلاحیت میں زیادہ کمی دیکھی گئی، جبکہ اے آئی سے رہنمائی لینے والوں پر اس کے اثرات نسبتاً کم تھے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور کارنیگی میلن یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ گریس لیو نے کہا ہے کہ مشکل مسائل کو خود حل کرنے کی کوشش نئی مہارتیں سیکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، فوری حل فراہم کرنے والے اے آئی ٹولز صارفین کو اس ذہنی مشقت سے محروم کر سکتے ہیں جو آزادانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ چند سیکنڈ میں جواب حاصل کرنے کے عادی افراد روایتی طریقوں سے مسائل حل کرنے کو غیر ضروری طور پر وقت طلب سمجھنے لگ سکتے ہیں۔
تحقیق میں صرف مختصر مدت کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کا مختصر دورانیے کے لیے استعمال دماغی صلاحیتوں کو مستقل نقصان پہنچاتا ہے۔
سائنس دانوں نے تجویز دی ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کو تیار جوابات فراہم کرنے کے بجائے استاد کی طرح کام کرنا چاہیے، تاکہ وہ صارفین کو خود جواب تک پہنچنے میں مدد دے سکیں۔






تبصرے بند ہیں