امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جو حکومت ہوتی ہے بات اسی سے ہوتی ہے، وہ فارم 47 کے ہوں یا 48 کے، بات حکومت سے کرنی ہوتی ہے۔ ہائی جیکر جہاز ہائی جیک کرلیتا ہے تو بات اسی سے کرنا پڑتی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ نومبر کے وسط میں ہم اسلام آباد لانگ مارچ کریں گے اور اب مارچ کو ملتوی نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ کی تیاری جاری رکھیں گے اور پورے ملک میں موبلائزیشن شروع ہوجائے گی۔ ہم حکومت سے مزید بات کریں گے لیکن نومبر کے وسط میں مارچ ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت مارچ شروع ہونے سے پہلے پیکیج کا اعلان کرے اور مارچ سے پہلے لیوی کے خاتمے کا کوئی نظام بنادے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیوی بھتا ختم ہونا چاہیے، لیوی کا بوجھ مڈل کلاس اور غریب لوگ اٹھا رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ریلیف ملے اور ساتھ ساتھ لیوی بھی ختم ہو، پیٹرول کی قیمت میں بھی ریلیف ملے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ریلیف پیکیج سے عوام کو زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا، اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف بڑھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں لیوی ختم کریں، وہ کہتے ہیں مرحلہ وار ریلیف دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 7 سے 10 دن مزید مانگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اگر احتجاج نہ کرتی تو کیا حکومت پیٹرول پر یہ ریلیف دیتی؟ انہوں نے تو 80 روپے کی لیوی 160 کردینی تھی، ہم نے احتجاج کیا تو یہ پیچھے آئے۔ ہمارا دباؤ حکومت پر موجود ہے اور ہم اسے مزید بڑھائیں گے۔ ہوسکتا ہے سڑک پر بیٹھ کر بات کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ہر جماعت حکومت میں آنے سے پہلے آئی ایم ایف کا کشکول توڑنے کی بات کرتی ہے۔






تبصرے بند ہیں