بھارت میں 72 سالہ شخص کے ساتھ 4 سال کے دوران 35 کروڑ بھارتی روپے کا فراڈ ہوگیا جس کا اسے علم تک نہ ہوا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی سے تعلق رکھنے والے بھرت ہرک چند شاہ نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران ایک بروکریج فرم نے ان کے اور ان کی اہلیہ کے اکاؤنٹ کو غیر مجاز تجارت کیلئے استعمال کیا۔
فراڈ کیسے ہوا؟
بھرت شاہ ممبئی کے علاقے پرل میں کینسر کے مریضوں کیلئے کم کرائے پر گیسٹ ہاؤس چلاتے ہیں، 2020 میں بھرت نے ایک دوست کی مشاورت سے مذکورہ بروکریج فرم کے ساتھ ڈیمیٹ اور ٹریڈنگ اکاؤنٹ کھولا تھا اور یہیں سے ان کے اکاؤنٹ سے فراڈ کا آغاز ہوا۔
اکاؤنٹ کھولنے کے بعد بھرت نےاپنے وراثت میں ملنے والے شیئرز اس کمپنی اکاؤنٹ میں منتقل کردیے۔
کمپنی کی جانب سے بھرت کو بتایا گیا تھا کہ ٹریڈنگ کیلئے انہیں مزید اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہوگی اور شیئرز کو بطور ضمانت استعمال کرتے ہوئے محفوظ طریقے سے تجارت کی جا سکے گی۔
چونکہ جوڑا اسٹاک مارکیٹ ٹریڈ سے لاعلم تھا لہٰذاکمپنی کیجانب سے بھرت شاہ کو پرسنل گائیڈکے طور پر کمپنی کے 2 ملازم فراہم کیے گئے، ان ملازمین کو بھرت کے پورٹ فولیو کا مینجمنٹ انچارج بنایا گیا اور یوں ان ملازمین نے بھرت اور اس کی بیوی کے اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، 4 سال تک بھرت کے اکاؤنٹ کے ذریعے وسیع تجارتی سرگرمیاں چلائی جاتی رہیں۔
فراڈ پکڑا کیسے گیا؟
مارچ 2020 اور جون 2024 کے دوران بھرت شاہ کو سالانہ منافع کی اسٹیٹمنٹ تک بھیجی گئی جس کی وجہ سے وہ شک میں بھی مبتلا نہ ہوسکے تاہم جولائی 2024 میں کمپنی کے رسک مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے موصول ہونیوالی کال نے فراڈ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
بھرت شاہ کو بتایا گیا کہ ان کے اور ان کی اہلیہ کے اکاؤنٹ پر 35 کروڑ روپے کا ڈیبٹ بیلنس ہے اگر یہ ڈیبٹ فوری طور پر ادا نہ کیا گیا تو ان کے شیئرز فروخت کر دیے جائیں گے۔
بعد ازاں جب بھرت کمپنی پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے اکاؤنٹ سے بڑے پیمانے پر غیر مجاز تجارت ہوئی ہے، کروڑوں کے شیئرز فروخت کیے جاچکے جب کہ ایک ہی پارٹی کے ساتھ کیے گئے لین دین نے اکاؤنٹ کو بڑا نقصان پہنچایا، اس کے بعد بھرت نے اپنے شیئر فروخت کرکے 35 کروڑ کا قرض اداکیا، باقی بچ جانے والے حصص کو دوسری کمپنی میں منتقل کردیا۔
بھرت شاہ نے اس فراڈ کو منظم مالی فراڈ قرار دیتے ہوئے بروکریج فرم کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔






تبصرے بند ہیں