پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی بہن علیمہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ وکیل سلمان صفدر ملک سے باہر ہیں، 24 گھنٹوں کے اندر کیس مقرر کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھا گیا کہ وکیل پیش نہیں ہو سکیں گے، لیکن سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہو گئے۔
سپریم کورٹ کے باہر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ کیس صرف 30 سیکنڈ سنا گیا اور 12 تاریخ دے دی گئی، یہ کہا گیا کہ اس سے پہلے کوئی وقت نہیں۔انہوں نے کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی ملاقات کا دن ہے اور عدالت سے اس کے لیے باقاعدہ اجازت بھی لی گئی ہے، جبکہ آج توشہ خانہ کیس کی سماعت بھی ہونی ہے۔ گزشتہ سماعت میں پراسیکیوشن کی جانب سے 12 وکلا اور عملے سمیت تقریباً 20 افراد عدالت پہنچے تھے، لیکن ہماری جانب سے صرف ایک وکیل کو جیل کے اندر جانے دیا گیا۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ نہ ہماری وکلا ٹیم کو اڈیالہ جیل میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی اہل خانہ کو، جو ثابت کرتا ہے کہ یہ اوپن ٹرائل نہیں ہے اور نہ ہی منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم صرف منصفانہ ٹرائل چاہتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کے حکم کے باوجود جج کی بات جیل انتظامیہ نہیں مان رہی، جج نے اہل خانہ اور وکلا کو بلانے کا کہا لیکن انتظامیہ نے انکار کر دیا۔





تبصرے بند ہیں