مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کی جانب سے بڑے امریکی بینکس کے صارفین کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی اور اپنی مرضی سے مالی کارروائیاں کرنے کی کوششوں نے بینکنگ کے شعبے میں تشویش پیدا کر دی۔
خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق بینک آف امریکا، جے پی مورگن، ویلز فارگو اور مورگن اسٹینلے سمیت بڑے مالیاتی ادارے مصنوعی ذہانت کے ان خودکار نظاموں سے لاحق خطرات پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض غیر مجاز مصنوعی ذہانت کے نظام صارفین کی فراہم کردہ درست لاگ اِن معلومات استعمال کر کے ان کے اکاؤنٹس تک پہنچنے اور صارفین کی واضح ہدایات کے بغیر مالی کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
امریکی بینکس نے ایسے نظاموں کی جانب سے رابطہ مراکز سے رابطے اور صارفین کی اجازت کے بغیر اقدامات کرنے کی کوششوں کا بھی پتہ لگایا ہے، حکام کو خدشہ ہے کہ یہ نظام صارفین کے اکاؤنٹس سے رقم منتقل کرنے یا غیر مجاز خریداری کر سکتے ہیں۔
مالیاتی ادارے اپنے ضابطوں میں تبدیلی، غیر مجاز رسائی کی روک تھام اور نظاموں کی حفاظت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
جے پی مورگن سمیت بعض بینکس نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنا صارف نام اور پاس ورڈ کسی مصنوعی ذہانت کے نظام یا تیسرے فریق کو فراہم نہ کریں۔
مورگن اسٹینلے نے فی الحال اپنے پلیٹ فارم پر ایسے خودمختار مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی غیر مجاز رسائی کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم احتیاطی اقدامات کرنے کا بتایا ہے۔
بینکس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث نئے حفاظتی خطرات سامنے آ رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے بینکنگ نظام کو مسلسل بہتر بنانا ضروری ہے۔
خطرات سے بچاؤ کے لیے بیشتر مالیاتی ادارے مصنوعی ذہانت کے نظام کو صرف معلومات دیکھنے تک محدود رکھنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ وہ صارفین کے مالیاتی معاملات کا جائزہ تو لے سکیں لیکن رقم کی منتقلی یا لین دین نہ کر سکیں۔





تبصرے بند ہیں