معاشی جادوگروں نے گزشتہ 50 سال میں روپے کی بے قدری کی ہے, گوہر اعجاز

Economic magicians have devalued the rupee in the last 50 years, Gohar Ijaz

چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ اور سابق نگراں وزیرِ تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ گزشتہ 50 برسوں کے دوران نام نہاد معاشی ماہرین نے روپے کی قدر کو مسلسل نقصان پہنچایا ہے

اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی (ڈی ویلیوایشن) کو معاشی مسائل کا حل سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے، کیونکہ یہ اقدام ڈالر کی قلت جیسے بنیادی مسئلے کو دور نہیں کر سکتا۔

گوہر اعجاز نے مزید کہا کہ ذخیرہ اندوز مارکیٹ سے مہنگے داموں ڈالر خریدتے ہیں، جبکہ ٹیکس چور مارکیٹ سے 3 فیصد اضافی نرخ پر ڈالر لے کر مصنوعی خوف پیدا کرتے ہیں، جس سے معاشی پالیسی سازوں کو ڈالر کی قلت کا وہم لاحق ہو جاتا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ڈی ویلیوایشن کی نہیں، برآمدات میں اضافے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشی پالیسی ساز یہ بھول جاتے ہیں کہ ملکی درآمدات کا دارومدار ڈالر پر ہوتا ہے، اور روپے کی بے قدری صرف مہنگائی اور مسائل کو جنم دیتی ہے۔

گوہر اعجاز نے واضح کیا کہ گزشتہ 50 سالوں میں بار بار روپے کی قدر کم کرنے سے معیشت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا، اور اگر یہی پالیسی جاری رہی تو آئندہ 50 سالوں میں بھی حالات بہتر ہونے کی امید نہیں۔ ان کے مطابق روپے کی ڈی ویلیوایشن سے پاکستان کو معاشی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے معاشی مسائل کی اصل جڑ کو پہچانیں اور پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف لے کر جائیں۔

READ  حکومت احتجاج کی آڑ میں سیاسی مقاصد برداشت نہیں کرے گی, طلال چوہدری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں