قومی ائیرلائن انتظامیہ اور ائیرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے، قومی ائیرلائن کے ائیرکرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی کلیئرنس روک دی جس سے ملک بھر میں قومی ائیرلائن کا فلائٹ آپریشن رک گیا۔
ذرائع کے مطابق ائیرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کی وجہ سے قومی ائیرلائن کی پروازیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ پیر کی رات 8 بجے کے بعد سے قومی ائیرلائن کی بین الاقوامی پروازیں روانہ نہیں ہو سکیں، 12 بین الاقوامی پروازیں متاثر ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ مسافروں میں ایک بڑی تعداد عمرہ زائرین کی ہے۔
سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز کے مطابق وہ سی ای او قومی ائیرلائن کا رویہ ٹھیک ہونے تک کام نہیں کرینگے اور انہوں نے طیاروں کو اڑان کے لیے کلیئرنس دینے سے روک دیا ہے۔
ذرائع سیپ کے مطابق ائیرکرافٹ انجینئرز اپنے مطالبات کے حق میں ڈھائی ماہ سے بازو پر کالی پٹیاں باندھ کر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، طویل پُرامن احتجاج کے باوجود قومی ائیرلائن کی انتظامیہ بات کرنے کےلیے تیار نہیں تھی۔
ذرائع سیپ کے مطابق ائیر کرافٹ انجینئرز کی تنخواہیں 8 سال سے نہیں بڑھائی گئیں، ائیر لائن کے پاس طیاروں کے فاضل پرزہ جات کی شدید کمی ہے، دعویٰ کیا گیا کہ انجینئرز پر طیاروں کے قوائد کے خلاف پرواز کے لیے کلیئرنس دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز کے مطابق وہ ایئر لائن انتظامیہ کے دباؤ پر مسافروں کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔






تبصرے بند ہیں