امریکی صدر کی جانب سے بھارت پر درآمدی ٹیرف میں اضافے کے اعلان پر بھارت نے شدید ردعمل دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس فیصلے کو غیرمنصفانہ اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ یوکرین جنگ کے بعد توانائی کی فراہمی یورپ کی طرف موڑ دی گئی تھی، جس کے باعث بھارت نے روس سے درآمدات کا آغاز کیا۔ اُس وقت امریکہ نے خود بھارت کو ایسی درآمدات کی حوصلہ افزائی کی تاکہ عالمی توانائی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق بھارت نے اپنے تمام فیصلے قومی مفاد اور عالمی توانائی سلامتی کو مدنظر رکھ کر کیے ہیں، اور اب اسی پالیسی پر بھارت کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ بھارت عالمی قوانین، مارکیٹ استحکام اور توانائی کے تحفظ کے اصولوں پر کاربند ہے اور اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے بھارت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ روس سے سستا تیل خرید کر فائدہ اٹھا رہا ہے، جو امریکی مفادات کے منافی ہے۔ اس پس منظر میں ٹیرف میں اضافے کا اعلان کیا گیا، جسے بھارت کے لیے ایک سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک خطے میں چین کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے شراکت دار سمجھے جاتے ہیں۔





تبصرے بند ہیں