بڑے تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا کلچر، انفلوئنسر نے راز فاش کردیا

Influencer reveals culture of harassment in major educational institution

پاکستان کے نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسر عبدالرحمان عاصم نے آرٹس کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں میں مبینہ بُلنگ کے کلچر سے متعلق انکشاف کرکے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

عبدالرحمان عاصم گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا پر اپنی منفرد اور حقیقت سے قریب مواد کی بدولت مقبول ہوئے۔ ان کی ویڈیوز خاص طور پر نوجوان نسل میں کافی پسند کی جاتی ہیں۔ سر پر رکھا ہوا ان کا مخصوص سرمئی تولیہ اور روزمرہ زندگی کے عام مگر دلچسپ موضوعات کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنا ان کی پہچان بن چکا ہے، جس نے لاکھوں ناظرین کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔

حال ہی میں انہوں نے خوشی کے ساتھ بتایا تھا کہ انہیں اپنی خوابوں کی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے جہاں وہ فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے داخلے کی ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی تھی جسے سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی۔
تاہم چند ہی ہفتوں بعد انہوں نے ایک نئی ویڈیو میں اعلان کیا کہ وہ اپنی اسی خوابوں کی درسگاہ کو چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے اس فیصلے نے مداحوں کو حیران کر دیا اور بہت سے لوگوں نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔

بعد ازاں عبدالرحمان عاصم نے ایک ویڈیو کے ذریعے کھل کر بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے اندر بُلنگ کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے مطابق ادارے کے ماحول کا حصہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں ذہنی طور پر بہت متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

READ  رابی پیرزادہ کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ، ملزم گرفتار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں