غزہ میں اسرائیلی فوج کی امداد کے منتظر فلسطینیوں پر فائرنگ، 30 فلسطینی شہید

Israeli forces open fire on Palestinians waiting for aid in Gaza

غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے امداد کے انتظار میں کھڑے 30 فلسطینی شہید ہوگئے۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق بدھ کو شمالی غزہ میں انسانی امداد کے انتظار میں کھڑے شہریوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد شہید اور 300 زخمی ہو گئے۔

الشفاء اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر کراسنگ پوائنٹ سے تقریباً 3 کلومیٹر جنوب مغرب میں پیش آیا، جہاں سے امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں فائرنگ کے نتیجے میں 35 لاشیں لائی گئیں۔

اس سے قبل سول ڈیفنس ایجنسی نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے 4 مختلف حملوں میں مزید 14 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں سے 3 حملے امدادی مراکز کے قریب ہوئے۔

ان میں سے 2 واقعات کے حوالے سے اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے لوگوں کو امدادی مراکز کے قریب آنے سے روکنے کے لیے فائر کیے تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے شمال میں پیش آئے فائرنگ کے واقعے کا جائزہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب بدھ کو بھوک کی شدت سے مزید7 فلسطینی شہید ہوگئے جس کے بعد غذائی قلت سے مجموعی اموات 154ہوگئیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر2023 کے بعد اسرائیلی حملوں میں 60 ہزار 138 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

ان اسرائیلی حملوں میں اب تک 1 لاکھ 46 ہزار 269 افراد زخمی بھی ہوئے۔ شہدا میں 18 ہزار 500 فلسطینی بچے بھی شامل ہیں۔

READ  عراقی کردستان کی بڑی خور مور گیس فیلڈ پر ڈرون حملہ، پاور اسٹیشنز کو سپلائی معطل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں