سعودی عرب میں 300 سے زائد پاکستانی ورکرز لاوارث، تنخواہیں بند، اقامے معطل، سفارتخانے کی بے حسی سے مشکلات میں اضافہ

More than 300 Pakistani workers abandoned in Saudi Arabia, salaries withheld, residence permits suspended

ریاض (ٹی وی ٹوڈے آن لائن)  سعودی عرب کی تعمیراتی صنعت میں خدمات انجام دینے والے سیکڑوں پاکستانی ورکرز شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ شہر ابھا میں ایک مقامی تعمیراتی کمپنی کے زیرِ انتظام کام کرنے والے 300 سے زائد پاکستانی مزدور گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں، اقاموں اور واپسی کے انتظامات کے بغیر لاوارث حالت میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ورکرز پانچ سالہ کنسٹرکشن پراجیکٹ کے لیے بھرتی کیے گئے تھے۔ پہلے چار سال تک معاملات معمول کے مطابق چلتے رہے، تاہم گزشتہ دس ماہ سے کمپنی نے تنخواہیں روک رکھی ہیں۔ متعدد ملازمین کے مطابق کچھ ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس میں کی جا رہی ہیں، مگر اقامہ کی مدت ختم ہونے کے باعث وہ رقم نکالنے سے قاصر ہیں۔ کمپنی کی ذمہ داری ہونے کے باوجود اقاموں کی تجدید نہیں کرائی گئی۔

ورکرز نے بتایا کہ ان کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں بچے کہ دو وقت کا کھانا خرید سکیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے عارضی ریلیف کے طور پر فی کس 300 ریال فراہم کیے گئے، مگر وہ چند دنوں سے زیادہ کارآمد نہیں رہے۔ دوسری جانب، نیپال، فلپائن سمیت دیگر ممالک کے سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو قانونی مدد اور راشن فراہم کیا ہے، جب کہ پاکستانی ورکرز کو کوئی امداد نہیں ملی۔

ورکرز کے مطابق پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے ایک نمائندہ ابھا آیا تھا، مگر وہ صرف تسلی دے کر واپس چلا گیا۔ اس کے برعکس فلپائنی سفارتخانے نے کمپنی کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر ورکرز کے واجبات ادا نہ کیے گئے تو وہ خود قانونی کارروائی کرے گا۔

READ  پاکستان کا فتح 4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ، آئی ایس پی آر

متاثرہ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ اب بے بسی کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں،  “نہ ہمارے پاس کھانے کو پیسے ہیں، نہ اقامہ ہے، نہ کوئی واپسی کا بندوبست۔ اگر ہمارے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے تو کم از کم ہمیں پاکستان واپس بھیج دیا جائے تاکہ ہم اپنے خاندان کے ساتھ رہ سکیں۔”

انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور سیکریٹری خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔

ورکرز کا کہنا ہے کہ وہ ملکی زرمبادلہ کے اہم ذرائع ہیں، مگر آج وہی لوگ بے یار و مددگار چھوڑ دیے گئے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ابھا میں پھنسے پاکستانیوں کے واجبات کی ادائیگی، اقاموں کی تجدید اور پاکستان واپسی کے انتظامات کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں