پاکستان نے سلامتی کونسل اجلاس میں اسرائیلی نمائندے کے ریمارکس کا بھرپور جواب دیا

Pakistan responds strongly to Israeli representative's remarks at Security Council meeting

پاکستان کا سلامتی کونسل میں اسرائیلی الزامات پر دو ٹوک جواب

نیویارک:سلامتی کونسل کے قطر سے متعلق اجلاس میں اسرائیلی نمائندے کے ریمارکس پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سخت ردعمل دیا۔

انہوں نے اجلاس میں کہا کہ مجھے افسوس کے ساتھ کچھ بے بنیاد باتوں کا جواب دینا پڑ رہا ہے۔ اسرائیلی نمائندے نے نہ تو بحث کو سنجیدگی سے سنا اور نہ ہی حقائق کو تسلیم کیا۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک جارح اور قابض ریاست، جو مسلسل اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے، اس کونسل کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے دوسروں پر انگلی اٹھا کر اپنی غیر قانونی کارروائیوں کو چھپانے کی کوشش کی ہو۔ اسرائیل کسی کی نصیحت یا دباؤ کو نہیں مانتا، چاہے وہ اس کے اپنے اتحادی ہی کیوں نہ ہوں۔ وہ عالمی عدالتِ انصاف، عالمی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک کو دھمکاتا ہے، اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے خود کو مظلوم ظاہر کرتا ہے۔ لیکن اب وہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کونسل نے مشرقِ وسطیٰ اور فلسطین پر ہمیشہ طویل بحث کی ہے، اور اس کی وجہ صرف اور صرف اسرائیل ہے جو اپنی غیر قانونی قبضے کو ختم کرنے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہی اس بدترین صورتحال کی اصل جڑ ہے۔

READ  یوکرین مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے: پاکستانی مندوب

عاصم افتخار نے واضح کیا کہ اسرائیل نے پاکستان سے متعلق بے بنیاد اور گمراہ کن ریمارکس دیے تاکہ اپنی خلاف ورزیوں کو درست ثابت کر سکے۔ پاکستان کا مؤقف سب کے سامنے ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے نمایاں کردار ادا کیا اور بھاری قربانیاں دیں۔ پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے القاعدہ کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا۔ ہم کسی ایسی ریاست کی بے سروپا باتوں کو تسلیم نہیں کرتے جو خود بدترین ریاستی دہشت گردی کی مرتکب ہے اور جس کے مظالم غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں سب دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایسے جھوٹے موازنے کو مسترد کرتا ہے، جیسا کہ قطر نے بھی کیا ہے۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ آج سلامتی کونسل کے مشترکہ بیان کو غور سے پڑھے، جس میں قطر پر حالیہ حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور عام شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ کونسل کے اراکین نے قطر کے ثالثی کردار کو سراہا اور مصر و امریکا کے ساتھ اس کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ کونسل نے واضح کیا کہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی سفارتی کاوشوں کی اہمیت کو دہرایا گیا۔ یہی وہ وجہ ہے جس کے تحت ہم آج اس اجلاس میں جمع ہوئے ہیں۔

READ  امریکا کی مختلف ریاستوں میں شدید بارشیں اور سیلاب، ہزاروں گھر بجلی سے محروم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں