امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے، جہاں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ان کا استقبال کیا۔
سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ اتحادی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
سرخ کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین کیوں بچھایا گیا؟
صدر ٹرمپ کے طیارے کی انقرہ کے ایتمسگت ایئر بیس پر لینڈنگ کے بعد ان کے اعزاز میں روایتی استقبالیہ منعقد کیا گیا۔
اس موقع پر سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترک روایات سے وابستہ ایک علامتی روایت ہے، جبکہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
ترکیہ سرکاری مہمانوں کے استقبال کے لیے سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین استعمال کرتا ہے کیونکہ ترک تاریخ اور روایات میں فیروزی رنگ کو ‘شاہی اور عظمت’ کا رنگ سمجھا جاتا ہے۔ یہ رنگ ترک ثقافت، تاریخ، اور ملکی وقار کی عکاسی کرتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان خود رن وے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر ایردوان کو اپنا “دوست” قرار دے چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے ترکیہ میں تعینات امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بیرک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وائٹیکر اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی ایئر بیس پر موجود تھے۔
نیٹو کے اتحادی مملاک پر ٹرمپ کا دباؤ
صدر ٹرمپ کی جانب سے 77 سال سے جاری نیٹو اتحاد کے رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک دفاعی بجٹ میں اضافے کے حوالے سے “نمایاں پیش رفت” کر چکے ہیں، جو امریکی صدر کا ایک اہم مطالبہ رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی سلامتی بھی نیٹو رہنماؤں کے درمیان زیرِ بحث اہم موضوعات میں شامل ہوگی، کیونکہ خطے کی کشیدہ صورتحال عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
دریں اثنا، صدر ٹرمپ کی یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات متوقع ہے، جس میں روس۔یوکرین جنگ اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 24 گھنٹوں میں جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کی انتظامیہ اب تک اس تنازع کے مستقل حل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔






تبصرے بند ہیں