شہباز شریف اور عاصم منیر کی بصیرت، پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز

Shahbaz Sharif and Asim Munir's insight

اسلام آباد: ایک قابلِ ذکر سفارتی اور اسٹرٹیجک پیشرفت کے طور پر پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، اور کسی وقت میں تنہائی کا شکار سمجھا جانے والا یہ ملک اب علاقائی اور بین الاقوامی امور میں ایک کلیدی کردار کے حامل فریق بن کر سامنے آ رہا ہے۔

چند برس قبل، پاکستان کو سفارتی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ تنہائی کا بھی سامنا تھا۔ آج اسی پاکستان کا نام دنیا کے انتہائی نازک اور وسیع اثرات کے حامل اس تنازع میں ممکنہ ثالث کے طور پر زیرِ بحث آ رہا ہے، جس کے اثرات سے دنیا کا تقریباً ہر فرد سامنا کر رہا ہے۔

جس وقت ایران جنگ کے اثرات سے پوری دنیا متاثر تھی اور اس کے فوری خاتمے کی کوئی امید نظر نہیں تھی، اس وقت پاکستان پیر کے روز عالمی خبروں کی زینت بنا، جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر جاری کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار پاکستان ادا کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس میں سفارتی روابط کے فروغ اور سول و عسکری ہم آہنگی کو یکجا کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان مضبوط تعلق اس کوشش کا مرکزی عنصر ہے، جس میں سیاسی قیادت اور ادارہ جاتی قوت کا امتزاج نمایاں ہے۔ منگل کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیشکش کی کہ اسلام آباد کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کیلئے ممکنہ مقام کے طور پر دیکھا جائے۔ یہ اقدام امن و استحکام کیلئے پاکستان کے عزم کا اظہار ہے۔

READ  وزیراعظم شہباز شریف کی آذر بائيجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات

وزیراعظم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ پاکستان بامعنی اور حتمی مذاکرات کیلئے سہولت فراہم کرنے کیلئے تیار اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس بیان کے ساتھ انہوں نے بڑھتی عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان کو ایک معتبر اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا۔ اس کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہباز شریف کی اس پوسٹ کو ایکس پر دوبارہ شیئر کیا، جسے ایک محتاط تائید کے طور پر دیکھا گیا اور اس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ جنگ کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی میں پاکستان ایک خاموش لیکن اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اسلام آباد کے بڑھتے سفارتی اثر و رسوخ کی غمازی کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم، آرمی چیف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، جو نائب وزیرِ اعظم بھی ہیں، متعلقہ عالمی فریقین سے مسلسل رابطوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اس سفارتی بحالی کے پس منظر میں سول و عسکری سطح پر غیر معمولی ہم آہنگی کارفرما ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں